Bayan-ul-Quran - Al-Qasas : 69
مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠   ۧ
مَثَلُ : مثال الْفَرِيْقَيْنِ : دونوں فریق كَالْاَعْمٰى : جیسے اندھا وَالْاَصَمِّ : اور بہرا وَالْبَصِيْرِ : اور دیکھتا وَالسَّمِيْعِ : اور سنتا هَلْ يَسْتَوِيٰنِ : کیا دونوں برابر ہیں مَثَلًا : مثال (حالت) میں اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : کیا تم غور نہیں کرتے
تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،90 اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
سورة القصص 90 یہ ارشاد دراصل شرک کی تردید میں ہے، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بیشمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں، اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں، جنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہتے ہیں لیتے ہیں، یہ اختیارات آخر ان مشرکین کو کیسے اور کہاں سے مل گئے کہ میرے بندوں میں سے جس کو چاہیں مشکل کشا، جسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریاد فرس قرار دے لیں ؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے والا، جسے چاہیں بیماری و صحت کا مالک بنادیں ؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا رماں روا ٹھہرا لیں ؟ اور میرے اختیارات میں سے جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں ؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا نبی یا ولی، بہرحال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے، جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطا و بخشش سے ملے ہیں، اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی ہے لی ہے۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیسے ہوگئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے پر پہنچا دیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سر نیاز جھکا دیا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے، ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں، انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ لیا جائے، اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا جائے ؟
Top