Tafseer-e-Majidi - Hud : 37
وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ
وَرَبُّكَ : اور تمہارا رب يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے مَا : جو تُكِنُّ : چھپا ہے صُدُوْرُهُمْ : ان کے سینے وَمَا : اور جو يُعْلِنُوْنَ : وہ ظاہر کرتے ہیں
اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں) کے دودھ حرام کر دیئے تھے۔ تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اس کی خیر خواہی (سے پرورش) کریں
وحرمنا علیہ المراضع من قبل . اور ہم نے پہلے ہی سے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں (کے دودھ) کی بندش کر دی تھی۔ بندش سے مراد ہے تکوینی (فطری) بندش ‘ تشریعی بندش مراد نہیں ہے (کیونکہ بچہ احکام تشریعی کا مکلف نہیں ہوتا خصوصاً نوزائیدہ بچہ ‘ مترجم) ۔ مَرَاضِعَ یا مُرْضِع کی جمع ہے یعنی ہر دودھ پلانے والے کے دودھ کی بندش کردی تھی اس لئے موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ یا مَرْضِع کی جمع ہے اور مَرْضِع یا مصدر میمی ہے یعنی دودھ پینے کی بندش کردی تھی یا مَرْضِع ظرف امکان ہے یعنی ہر عورت کی پستان کو روک دیا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : فرعون کی بیوی چاہتی تھی کہ کسی طرح کسی دودھ پلانے والی کا دودھ موسیٰ پی لیں۔ چناچہ ایک کے بعد ایک دودھ پلانے والیاں آئیں مگر موسیٰ نے کسی کے پستان کو منہ نہیں لگایا۔ موسیٰ کی بہن یہ کیفیت دیکھتی رہی۔ آٹھ راتیں یونہی گزر گئیں کہ موسیٰ نے کسی مرضعہ کا دودھ نہیں پیا اور چلاتے رہے۔ فقالب ھل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ نصحون . سو (موسیٰ کی بہن نے) کہا : کیا میں تم کو ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور (دل سے) اس کی خیرخواہی کرتے رہیں۔ یعنی دودھ پلانے اور پرورش کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ نَصحٌ کھوٹ کی ضد ہے یعنی کسی کام کو بگاڑ اور خرابی کی آمیزش سے پاک صاف رکھنے کو نصح کہتے ہیں۔ ابن جریح اور سدی نے ہُمْ لَہٗ نَاصِحُوْنَ کا مطلب یہ بیان کیا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں۔ موسیٰ کی بہن نے وَھُمْ لَہٗ نَاصِحُوْنَ کہا تو لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا معلوم ہوتا ہے کہ تو اس کے گھر والوں کو جانتی ہے ‘ بتا وہ کون ہیں ؟ موسیٰ کی بہن نے کہا : مجھے تو اس کے گھر والے معلوم نہیں ‘ میں نے یہ کہا تھا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی سدی کا یہ قول نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ موسیٰ کی بہن سے جب بازپرس ہوئی تو اس نے کہا کہ میں یہ بات بادشاہ کی خوشی کے لئے کہہ رہی تھی اور اس بات کو ظاہر کرنے تھا کہ ہمارا تعلق بادشاہ سے ہے۔ بعض اہل روایت نے لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی بہن نے ھَلْ اَدْلُّکُمْ کہا تو لوگوں نے کہا : ایسا کون ہے ؟ اس نے کہا : میری ماں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : کیا تیری ماں کا کوئی لڑکا ہے ؟ ہمشیرۂ موسیٰ نے کہا : ہاں ہارون ہے (حضرت ہارون اس سال پیدا ہوئے تھے جس سال لڑکوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا) لوگوں نے کہا : تو نے ٹھیک کہا ‘ اس کو ہمارے پاس لے آ۔ لڑکی نے اپنی ماں سے جا کر پوری بات کہہ دی اور اس کو اپنے ساتھ لے آئی۔ موسیٰ نے جو اپنی ماں کی خوشبو سونگھی تو پستان کو منہ لگا دیا اور پینے لگے اور اتنا پیا کہ دونوں کوکھیں بھر گئیں۔ سدی نے کہا : روز کی اجرت موسیٰ کی والدہ کو ایک دینار ملتی تھی اور وہ اس لئے لے لیتی تھیں کہ وہ حربی کافر کا مال تھا۔
Top