Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 13
ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪
ثُمَّ : پھر جَعَلْنٰهُ : ہم نے اسے ٹھہرایا نُطْفَةً : نطفہ فِيْ : میں قَرَارٍ مَّكِيْنٍ : مضبوط جگہ
پھر ہم نے اسے ” نطفہ “ بنایا ، ایک ٹھہر جانے اور جماؤ پانے کی جگہ میں
پیدائش اول کے بعد دوسری پیدائش انسانی کا ضابطہ : 13۔ (قرار مکین) سے مفسرین نے جو کچھ سمجھا تھا اس کو اس طرح بیان کیا گیا کہ (قرار) ٹھہرنے کی جگہ (مکین) محفوظ اور اس سے مراد رحم مادر ہے گویا (مکین) درحقیقت مکان قرار کی صفت نہیں ہے بلکہ قرار پکڑنے والے کی ہے مجازا قرار کی صفت کردیا گیا ہے اور پھر اس کی تشریح شروع کی اور چلتے چلتے کن کن وادیوں میں گھومتے پھرتے رہے تفصیل کے لئے ابن جریر “ درمنثور ‘ کبیر اور معالم التنزیل وغیرہ کے اس مقام تفسیر پر نظر ڈال لیں لیکن آج یہ سب کچھ پڑھ کر ہنسی آتی ہے اور جدید علوم سے واقف طبقہ کے لوگ اس کو قرآن کریم سمجھ کر اس سے منہ پھیرتے ہیں اور ان بیچاروں کو کوئی نہیں بتاتا کہ یہ قرآن کریم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے حقائق اپنی جگہ قائم ہیں تو ان حقائق کی تفہیم اس دور میں کرائی گئی جس دور میں یہ مفسرین گزرے لہذا مفسرین کی غلطی کو قرآن کریم کی غلطی قرار دینا سراسر زیادتی ہے ، اس کی تفصیل عنقریب بیان کی جائے گی ۔
Top