Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی انسان کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے مگر ہاں ! وحی یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو بھیج دے کہ اس کے حکم سے جو اللہ چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بڑے مرتبے والا حکمت والا ہے
کسی انسان سے اللہ تعالیٰ رو در رو بات نہیں کرتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو 51 ؎ رو در رو بات کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ دو انسان آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے جس طرح بات کی جاتی ہے کریں ، کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کی مرئی آنکھ اس کی متحمل ہی نہیں کہ وہ ذات خداوندی کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھ سکے خواہ وہ آنکھ کسی رسول اور نبی کی ہو اور خواہ وہ کسی دوسرے ولی و بزرگ کی اور اس کی وضاحت قرآن کریم کے دو لفظوں میں کردی گئی کہ { لا تدرکہ الابصار } کہ کوئی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ اس کے باوجود یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ انبیاء و رسول کا وہ راز ہے جو عام انسان اور نبی و رسول کے درمیان خط امتیاز ہے پھر وہ شخص جو غیر نبی اور غیر رسول ہے وہ اس کی حقیقت کو تو پاہی نہیں سکتا البتہ اس کی وضاحت یہی ہے کہ انبیاء و رسول نے بھی کلام سنا ہے لکین کلام کرنے والے کو نہیں دیکھا اور اس لیے اس کو اللہ کا کلام کہا گیا ہے۔ اس کے بیان کرنے کی ضرورت یہ ہوئی کہ کفار کی طرف سے ہمیشہ یہ سوال اٹھایا گیا کہ وجہ کیا ہے کہ اللہ نبی و رسول سے بات کرتا ہے اور ہمارے رو در رو ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ؟ زیرنظر آیت میں اس بات کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ کفار کو یہ اعتراض ہے کہ اللہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا اور وہ برملا یہ کہتے ہیں کہ { لو لا یکلمنا اللہ } تو ان کے ایسے سوالوں کا ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے بھی رو در رو بات نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ جب اپنے نبیوں اور رسولوں سے بات کرتا ہے تو بھی ایک خاص قسم کے اشارہ ہی سیبات ہوتی ہے جو نبی و رسول سمجھتا ہے اور اشارہ کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ کسی دوسرے پر یہ بات واضح نہیں ہوتی اور کوئی بھی نبی اس حقیقت سے روشناس نہیں ہے اسی لیے اس کو ” وحی “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور وحی کی حقیقت سمجھنے کے لیے اس مقدمہ کا سمجھنا ضروری ہے کہ وہ علوم انسانی سے ایک ماوراء چیز ہے اور جب تک یہی معلوم نہ ہو کہ علوم انسانی کے ماخذ کیا ہے جو چیز علم انسانی سے ماوراء ہے اس کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ کیا ہوگی ؟ علم انسانی کا ماخذ کیا ہے ؟ سمجھ لینا چاہئے کہ علم انسانی کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بلاوساطہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ کسی واسطہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اب وہ علم جو بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اس کی تین اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ 1۔ وجدان۔ 2۔ فطرت۔ 3۔ ہدایت اولیہ۔ وجدان کیا ہے ؟ انسان کو اپنے جسمانی وجود اور اس جسمانی وجود کی اندرونی کیفیات کا علم سب سے زیادہ یقیی طور سے ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے وجود کا یقین ہے اور اس کے اندر بھوک ، پیاس ، بیماری ، صحت ، غم ، خوشی ، خوف وغیرہ اندرونی تغیرات کا علم اس کو بلاواسطہ از خود ہوجاتا ہے اور اسی کا نام وجدان ہے۔ فطرت کیا ہے ؟ بلاشبہ ہر نوع کی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسی خصوصیتیں عطا ہوئی ہیں جو دوسری نوعوں میں نہیں پائی جاتیں اور انہی سے باہم نوعوں کا اختلاف اور امتیاز ظاہر ہوتا ہے۔ ان نوعی خصوصیتوں کا علم ہر نوع کے افراد کو بلا کسی ذریعہ اور واسطہ کے از خود ہوتا ہے اور اسی کو علماء کی اصطلاح میں فطری یا نوعی الہام اور اہل فلسفہ کی اصطلاح میں ” جبلت “ کہتے ہیں۔ حیوانات کو اپنے متعلق بہت سی باتوں کا علم از خود فطرتاً ہوتا ہے۔ غور کرو کہ پرندوں کے بچوں کو دانہ چگنا اور اڑنا کون سکھاتا ہے۔ آبی جانوروں کو تیرنے کی تعلیم کون دیتا ہے ؟ شیر کے بچہ کو درندگی کا سبق کس معلم نے پڑھایا۔ انسان کے بچہ کو پیدا ہوتے ہی رونا ، سونا ، دودھ پینا کون سکھا دیتا ہے ؟ بلاشبہ یہ جو کچھ ہے سب فطری طور پر ہے اس لیے اس کو فطرت یا جبلت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہدایت اولیہ کیا ہے ؟ انسان کو کچھ تمیز آنے کے بعد بلادلیل بعض ایسی باتیں از خود یا بادنیٰ تامل اس طرح معلوم ہوجاتی ہیں کہ ان میں پھر کسی قسم کا شک و شبہ راہ نہیں پاتا جیسے دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ برابر کا برابر ہوتا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک چیز سیاہ اور سفدی نہیں ہو سکتی۔ ہر نئی چیز کا کوئی بنانے والا ہوتا ہے ، اسی طرح غورو فکر کرتے جاؤ تو کتیت ہی چیزیں ہیں جو ہدایت اولیہ میں بیان کی جاسکتی ہیں۔ علم انسانی کی وہ قسمیں جن کا علم اس کو کسی واسطہ سے ہوتا ہے وہ واسطہ کیا ہے ؟ بلاشبہ وہ واسطہ احساس اور عقل ہے۔ احساس کیا ہے ؟ احساس یہ ہے کہ انسان اپنے گرد و پیش کی ساری چیزوں کو محسوس کرتا ہے جس کے لیے کسی خارجی علم کی ضرورت نہیں ہوتی ان کا خون بخود احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ عقل کیا ہے ؟ عقل کا تقاضا ہے کہ جو چیزیں مادی طور پر سامنے نہیں ہیں ان کا علم حاصل کر کے ان کو سامنے لایا جائے یا ان پر یقین کیا جائے اور اسی کو عقل کا تقاضا کہتے ہیں اور پھر اسی عقلی علم کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں : ایک وہ جو انسان کے جسم کے اندر جسمانی قوتیں ہیں جیسے باصرہ ، سامعہ ، شامہ ، ذائقہ اور لامسہ۔ باصرہ کا کام دیکمنا ، سامعہ کا سننا ، شامہ کا سونگھنا ، ذائقہ کا چکھنا اور لامسہ کا چھوٹا اور انہی کا نام حواس خمسہ رکھا گیا اور یہی پانچ آلات انسان کے پاس ہیں جن کے ذریعہ سے وہ ان ساری چیزوں کے متعلق علم حاصل کرتا ہے اور اسی کا نام احساس ہے۔ ہم چکھ کر مزہ پاتے ہیں سن کر آواز پہچانتے ہیں۔ دیکھ کر صورت جانتے ہیں۔ چھو کر سختی و نرمی محسوس کرتے ہیں ، سونگھ کر بُو معلوم کرتے ہیں۔ ان حواس کے ذریعہ سے جو علم ہم کو حاصل ہوتا ہے وہ کسی حد تک یقینی ہوتا ہے اور شاذ و نادر غلط بھی جس کی وضاحت بہت لمبی ہے۔ مثلاً کسی بیماری کے باعث قوت ذائقہ متاثر ہوگئی تو اس نے ایک مزہ دار چیز کو بدمزہ کردیا اور میٹھی کو کڑوی۔ تیز رفتاری کے باعث باصرہ متاثر ہوئی اور اس نے ایک جامد چیز کو ہمارے سامنے متحرک کردیا اور متحرک کو جامد بنا کر رکھ دیا جیسے تیز ریل گاڑی میں زمین اور درخت چلتے نظر آنے لگتے ہیں اور ریل جو متحرک ہے وہ ساکن دکھائی دینے لگی۔ متحرک چنگاری کا نقطہ تیز سدھی حرکت میں ہم کو ایک آتشیں خط دکھائی دیا اور گول حرکت میں ایک آتشیں دائرہ۔ اسی طرح آسمان کے چمکتے ہوئے ستارے بہت چھوٹے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ محض دوری کی وجہ سے ہوا۔ علم بالواسطہ کی دوسری قسم وہ ہے جس کو عقل و قیاس ، غورو فکر اور استدلال کے ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد دراصل ان ہی معلومات پر ہوتی ہے جن کا علم ہم کو وجدان ، فطرت اور ہدایت اولیہ سے حاصل ہوا تھا کیونکہ انہی معلوم شدہ امور پر غیر معلوم شدہ امور کو تمثیل یا استقرار کے ذریعہ سے قیاس کر کے ان معلوم شدہ امور کی خصوصیات اور آثار کا حکم ان غیر معلوم لکین مشابہ یہ مماثل امور پر لگا کر نیا نتیجہ حاصل کرتے ہیں پھر اس کی بحث بہت لمبی ہے جس کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن اس مشکل کو اگر بیان کیا جائے تو اس سے تسکین نہیں ہوگی کیونکہ ان میں سے ہر منزل خطروں سے لبریز ہے۔ مشابہت و مماثلت میں دھوکا ہو سکتا ہے۔ اس ساری بحث کا نچوڑ غورو فکر ، بحثو نظر ، تحقیق و جستجو اور ترتیب مقدمات سب کے سب قیاس عقل کے کارکن ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علوم شکوک و شبہات سے لبریز ہیں جیسا کہ ہم روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کو اگر اختصار سے بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ وجدانیات و فطریات کے بعد محسوسات کا علم انسان کو ملتا ہے اور محسوسات کے بعد بدیہات اولیہ کا درجہ آتا ہے انسان کو اپنے اس علم میں بھی وہی اذعان و قطعیت ہوتی ہے جیسے دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ دس پانچ کا دوگنا ہوتا ہے۔ ایک مادی چیز ایک ہی وقت میں مادی طور پر دو جگہ نہیں ہو سکتی ان بدیہات کو ہر شخص تسلیم کرتا ہے مگر اس کا علم انسانکو بچپن میں نہیں ہوتا اگرچہ اس کا ملکہ موجود ہوتا ہے لیکن اس کا علم تمیز و رشد کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اسی وقت اس کی ضرورت پیش آتی ہے اور سب سے اخیر میں اس علم کا درجہ آتا ہے جو وجدانیات ، فطریات و بدیہات اور محسوسات پر قیاس کر کے حاصل کیا جاتا ہے اور اس علم کو علم معقولات کہتے ہیں۔ اس علم اور اس کی قوت کی کمی بیشی کا نتیجہ ہے کہ انسانی عقلیں درجہ اور مرتبہ میں متفاوت ہوتی ہیں جو ایک طرف کمی کے باعث حماقت تک پہنچ جاتی ہے اور دوسری طرف درجہ کمال کو پہنچتے ہوئے عاقل ترین طبقہ تک اونچی ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہ علم ہے جس کو ہم ماورائے مادہ سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ ذریعہ ان پانچوں ذرائع علم سے بالکل الگ ہے اور اس کا مقام ان ذرائع کے عبور کرلینے کے بعد آتا ہے۔ غور کیجئے کہ آپ کا سب سے پہلا علم یعنی وجدانیات آپ کے اندرونی حواس کا نتیجہ ہے۔ دوسرا علم فطریات خالق فطرت نے خود آپ کے اندر ودیعت کیا ہے ، تیسرا علم یعنی محسوسات کا علم آپ کے ان ظاہری حواس کا نتیجہ ہے اور چوتھا علم یعنی بدیہات اولیہ آپ کے اپنے حواس اور ذہن کا ایک مشترکہ فیصلہ ہے اور پانچواں ذریعہ علم جو آپ کی عقل و ذہن کی قیاس آرائی ہے وہ آپ ہی کے اندر کے دماغی قویٰ کا عمل ہے اور اب تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوجائے گا کہ آپ کا علم وجدان سے لے کر ذہن تک بتدریج مادیت سے ترقی کر کے ماورائے مادہ کے قریب تک پہنچتا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ سارا کھیل جسمانی ہے اور انسانی جسم روح سے مل کر یہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا جب مادی اور جسمانی قویٰ نے یہ کمال دکھایا تو کیا روحانی کمال روح نہیں دکھائے گا یقینا دکھائے گا اور اس کو ہم نے ” علم ماورائے عقل “ قراردیا ہے۔ غیر مادی علم کیا ہے ؟ اس کا مادہ سے کیا تعلق ہے ؟ غیر مادی علم کی سرحد اس کے بعد آتی ہے اور اس کا تعلق مادہ سے اتنا بھی نہیں جتنا معقولات اور ذہنیات کا ہے بلکہ وہ تمام تر مادہ اور مادیات سے پاک ہوتا ہے البتہ اس کا مادہ اس سے قدر تعلق ہوتا ہے کہ وہ علم مادی دل و دماغ کے آئینہ پر اپنا عکس ڈالتا ہے اور اس کے بعد مختلف مدراج بیان کیے گئے ہیں اور ان مدارج کے نام بھی تاکہ بات سمجھ میں آسکے ان درجات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے پہلا درجہ ” فراست “ دوسرا ” حدس “ تیسرا ” کشف “ چوتھا ” الہام “ اور پانچواں درجہ ” وحی “ کا ہے۔ جس طرح انسانی علم کے مذکورہ بالا پانچ ذریعے انسان کے جسمانی قویٰ سے متعلق بیان کیے گئے ہیں اسی طرح یہ غیرمادی ذرائع انسان کے روحانی قویٰ سے وابستہ ہیں اور جس طرح آپ نے دیکھا ہے کہ وجدانیات سے لے کر عقلیات تک بہ ترتیب ہمارا ذریعہ علم خالص مادی ، کامل مادی ، کم مادی اور برائے نام مادی تک ترقی کرتا چلا گیا ہے اسی طرح فراست ، حدس ، کشف ، الہام اور وحی بھی برائے نام مادی ، روحانی سے لے کر روحانی ، کامل روحانی اور خالص روحانی تک ترقی کرتے چلے گئے ہیں۔ روحانی علم کے ان مدارج کا تعارف ذرا وضاحت کے ساتھ 1۔ فراست کے معنی ہماری زبان میں ” تاڑ جانے “ کے ہیں اور تاڑ جانے کی قوت ہر شخص میں نمایاں نہیں ہوتی مگر جس میں نمایاں ہوتی اس کی یہ کیفیت ایک ملکہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے جو تجربہ کی کثرت اور علم کی مہارت اور کمال کے بعد انسان کو حاصل ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کے دیکھنے ، سننے ، چکھنے یا چھونے کے ساتھ ہی صرف بعض علامتوں کے جان لینے سے دوسری متعدد ضروری علامتوں پر تفصیلی نظر ڈالے بغیر اتنی جلدی انسان صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ دیکھنے والے ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا وہ غیب کی باتیں بیان کر رہا ہے حالانکہ اس کا علم تمام تر ظاہری علامتوں اور نشانیوں پر مبنی ہوتا ہے اور فراست کا ملکہ نیک و بد دونوں میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ناخواندہ فراست کا ملکہ رکھتے ہیں اور بعض خواندہ فراست کے ملکہ سے بالکل کورے ہوتے ہیں کیونکہ روح بہرحال دونوں میں موجود ہوتی ہے اور نیک و بد کی فراست میں جو فرق ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ نیک فراست نیک اور بد کی نیک نہیں ہوتی نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد علی ہے کہ (اتقوا فراسۃ ال مومن فانہ ینظر بنور اللہ) (ترمذی) مومن کے تاڑ لینے سے ڈرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی روشنی سے دیکھتا ہے۔ 2۔ حدس۔ فراست کے بعد حدس کا درجہ ہے۔ حدس کے ابتدائی مقدمات ذہن اور عقل ہوتے ہیں اور انہی میں غورو فکر اور تلاش و ترتیب سے نہایت تیزی کے ساتھ طے کر کے وہ آدمی نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ خود اس کو بھی اس کا احساس نہیں ہوتا کہ اس نتیجہ کے حاصل کرنے میں اس نے کوئی دماغی عمل کیا ہے اور یہ چیز بھی اکثر کامل العقل اور صائب الرائے انسانوں کو فطرتاً عطا ہوتی ہے۔ 3۔ کشف۔ حدس کے بعد کشف کا درجہ ہے جس کے لفظی معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں اور انسان کے نیک اعمال اور حسن اخلاق کے باعث مادیت کے ظلمانی پردہ چاک ہوجاتے ہیں اور مادی اشیاء روحانی عالم میں مشاہدہ کے طور پر نظر آنے لگتی ہیں زیادہ تر ان کا حصول رؤیا اور خواب میں ہوتا ہے لیکن ایک حالت سونے اور جاگنے کے درمیان بھی ہوتی ہے جس میں صاحب کشف کے حواس سونے والے کی طرح بیکار ہوجاتے ہیں اور رؤیا کی حالت بیدار ہوجاتی ہے اور حواس کا تعطل بلاریب اختیار نہیں ہوتا اگرچہ اس کو حاصل کرنا کسبی اور اختیاری امر ہے۔ 4۔ الہام کا درجہ کشف کے بعد کا ہے۔ الہام کے لفظی معنی ڈالنے کے ہیں اور یہ وہ علم ہے جو محنت ، تلاش ، تحقیق ، غورو فکر اور ترتیب مقدمات کے بغیر ہی دل میں جم جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی اور معمولی مثالیں وہ خیالات ہیں جو محققین علماء ، شعراء اور موجدین کے ذہن میں پر دئہ عدم سے پہلے پہل آتے ہیں اور وہ دنیا کے سامنے اپنی ایجادات ، تحقیقات اور علم و شعر کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ { فالھمھا فجورھا و تقوھا } انسان کے اندر نیکی اور بدی کی قوت رکھ دی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایجادات ، تحقیقات اور علم و شعر کی صورتیں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی اور ظاہر ہے کہ جو برتن میں ڈالا گیا ہے جب اس سے نکلے گا تو وہی نکلے گا جو ڈالا گیا اور جب مختلف چیزیں ڈالی گئی ہیں تونکالنے والا جو نکالنا چاہے گا وہ نکل آئے گا اور ظاہر ہے کہ جس طرح پاک اور منزہ روحیں ہوتی ہیں خبیث اور ناپاک روحوں سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ وحی کے لغوی معنی کسی پر اپنے دلی منشاء کو لبوں کے جنبش دیئے بغیر اخفاء اور آہستگی کے ساتھ ظاہر کردینے کا نام ہے اور اصطلاحاً اس کا اطلاق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی و رسول سے اپنی مرضی کا اخفاء اور آہستگی کے ساتھ اس کے دل تک پہنچا دینا ہے اور یہ علم کے روحانی ذریعوں کی آخری سرحد ہے اور اس کا اطلاق نیک طینت انسانوں ہی کے لیے خاص ہے۔ جس طرح علم کی تین جسمانی قسمیں یعنی وحدانیات ، حسیات اور بدیہات عام انسانوں کے ذریعہ یقینی ہیں اسی طرح روحانی ذرائع علم کے یہ تین ذرائع کشف ، الہام اور وحی انبیاء و رسل کے لیے یقینی ہیں اور اس آخری ذریعہ کا نام وحی ہے جس کے بعد اور کوئی درجہ نہیں ہے اور یہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے سب کا سب قرآن کریم کی اصطلاحیں نہیں ہیں سوائے ایک کے جس کا نام ” وحی “ ہے اور اس کو مکالمہ الٰہی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور مکالمہ الٰہی کے تین درجے زیر نظر آیت میں بیان کیے گئے ہیں جس کے باعث اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ 1۔ وحی یعنی اشارہ سے بات کرنا یعنی دل میں کسی بات کا بغیر آواز اور الفاظ کے آجانا ، اسی کا نام کشف بھی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا یعنی متکلم نظر نہیں آتا مگر غیب سے آواز مسموع ہوتی ہے اور الفاظ سنائی دیتے ہیں ، اس کا نام الہام ہے۔ 3۔ فرشتہ کے ذریعہ سے بات کرنا اس طرح کہ فرشتہ ایک خاص شکل و صورت میں نظر آتا ہے اور اس کے منہ سے وہ الفاظ ادا ہوتے ہیں جن کو سنکر رسول محفوظ کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص حکم و فیصلہ کے تحت یہ ہوتا ہے اور اس کا نام دراصل وحی بھی تجویذ خداوندی میں آیا ہے اور اس لفظ کا اطلاق ان تینوں صورتوں پر بھی ہوتا ہے جب کہ نبی و رسول کے ساتھ خاص ہوں اور غیر نبی و رسول کیل یے اصطلاح میں وحی کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اصطلاح میں وحی کا لفظ الفاظ کی ادائیگی کے لیے خاص ہے اور قرآن کریم نے جہاں غیر نبی و رسول کے لیے اس کا استعمال کیا ہے تو اس سے مراد محض فطری صورت میں ودیعت کی گئی چیز کے لیے ہے جس کو الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کیا جاتا۔ ماحصل یہ ہے کہ مکالمہ الٰہی کے یہ تینوں طریقے یعنی وحی (اشارہ) سے بات کرنا ، پردہ کے پیچھے سے بات کرنا جب کہ متکلم نظر نہ آئے اور فرشتہ کے ذریعہ سے بات کرنا ، وحی کی یہ تین اقسام ہیں۔ یہ تین مختلف قسمیں بھی ہیں اور پھر ان تینوں کا اجمالاً مشترک نام بھی ” وحی “ ہے اور ان تینوں قسموں میں ہر ایک پر اس کا اطلاق جائز اور درست ہے۔ غور کرو کہ زیر نظر آیت میں فرشتہ کے ذریعہ سے کلام کو بین وحی کہا گیا ہے اور دوسرے دونوں طریقوں میں جس طریقہ سے بھی رسول اللہ ﷺ کو کسی بات کی اطلاع دی گئی اس کو بھی وحی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے گویا اس کا استعمال عام مکالمہ الٰہی کے لیے بھی کیا گیا ہے جو کسی نبی و رسول کے ساتھ ہو اور ظاہر ہے کہ اب یہ سلسلہ نبوت و رسالت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم کردیا گیا نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی و رسول آئے گا اور نہ ہی کسی کی طرف نبوت و رسالت کی وحی کی جائے گی اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کسی نبی و رسول سے بھی اللہ تعالیٰ نے رو در رو بات نہیں کی جو اس طرح کی کوئی بات کرتا ہے وہ سرا سر جھوٹا اور مفتری ہے اور آخرت کا معاملہ اس دنیوی معاملہ سے بالکل الگ تھلگ ہے اس کو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
Top