Tafseer-e-Usmani - Al-Haaqqa : 42
وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ
وَلَا بِقَوْلِ : اور نہ ہی قول ہے كَاهِنٍ : کسی کا ہن قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَذَكَّرُوْنَ : تم نصیحت پکڑتے ہو
اور نہیں ہے کہا پریوں والے کا تم بہت کم دھیان کرتے ہو8
8  یعنی پوری طرح دھیان کرو تو معلوم ہوجائے کہ یہ کسی کاہن کا کلام نہیں۔ کاہن عرب میں وہ لوگ تھے جو بھوت پریت، جنوں اور چڑیلوں سے تعلق یا مناسب رکھتے تھے۔ وہ ان کو غیب کی بعض جزئی باتیں ایک مقضی و مسجع کلام کے ذریعہ سے بتلاتے تھے۔ لیکن جنوں کا کلام معجز نہیں ہوتا کہ ویسا دوسرا نہ کرسکے، بلکہ ایک جن کسی کاہن کو ایک بات سکھلاتا ہے دوسرا جن بھی ویسی بات دوسرے کاہن کو سکھلا سکتا ہے اور یہ کلام یعنی قرآن ایسا معجز ہے کہ سب جن و انس مل کر بھی اس کے مشابہ کلام نہیں بنا سکتے۔ دوسرے کاہنوں کے کلام میں محض قافیہ اور سجع کی رعایت کے لیے بہت الفاظ بھرتی کے بالکل بیکار اور بےفائدہ ہوتے ہیں، اور اس کلام معجز نظام میں ایک حرف یا ایک شوشہ بھی بیکار و بےفائدہ نہیں۔ پھر کاہنوں کی باتیں چند مبہم، جزئی اور معمولی خبروں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن علوم و حقائق پر مطلع ہونا اور ادیان و شرائع کے اصول و قوانین اور معاش معاد کے دستور و آئین کا معلوم کرلینا اور فرشتوں کے اور آسمانوں کے چھپے ہوئے بھیدوں پر سے آگاہی پانا ان سے نہیں ہوسکتا۔ بخلاف قرآن کریم کے وہ ان ہی مضامین سے پر ہے۔
Top