Anwar-ul-Bayan - Saad : 60
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلْ اَنْتُمْ ۣ : بلکہ تم لَا مَرْحَبًۢا : کوئی فراخی نہ ہو بِكُمْ ۭ : تمہیں اَنْتُمْ : بیشک تم قَدَّمْتُمُوْهُ : تم ہی یہ آگے لائے لَنَا ۚ : ہمارے لیے فَبِئْسَ : سو برا الْقَرَارُ : ٹھکانا
کہیں گے کہ بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو تم ہی یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے
(38:60) قالوا بل انتم ای قالوا بل انتم لامرحبابکم۔ بل حرف اضراب ہے۔ جملہ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) قالوا بل انتم یعنی انتم پر وقف ہے۔ وہ کہیں گے ہم نہیں بلکہ تم آگ میں جھلس رہے ہو۔ ای قالوا بل انتم صالوا النار۔ (2) دوسری صورت میں اگر وقف بکم پر کیا جائے تو مطلب ہوگا۔ قالوا بل انتم احق بما قلتم لنا۔ وہ کہیں گے۔ یہ نہیں بلکہ جو تم ہمارے بارے میں کہتے ہیں تم خود اس کے زیادہ حقدار ہو۔ یعنی تم نے جو لامرحبا بہم کہہ کر ہمارے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے تم اس نفرت اور عدم خوش آمدید کے زیادہ مستحق ہو۔ قد متموہ لنا : قد متم ماضی جمع مذکر تقدیم (تفعیل) مصدر۔ آگے لانا۔ سامنے کرنا۔ سامنے لانا۔ واؤ جمع کی ہے یا صالوا کے مصدر الصلی کے لئے ہے ای دخول النار لنا (ہمارا جہنم میں پھینکا جانا) یعنی تم ہی تو ہو جو یہ مصیبت (عذاب یا دوزخ) ہمارے آگے لائے ہو (یعنی تم ہی نے تو یہ سامان ہمارے لئے کیا ہے ہم کو دنیا میں دھوکہ سے کفر کی طرف ورغلاکر) بئس برا ہے۔ فعل ذم سے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا۔ بروزن فعل سمع سے۔ عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کو کسرہ دیا پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا۔ بئس ہوگیا۔ القرار۔ قرارگاہ۔ ٹھکانا ۔ قر (باب ضرب) مصدر سے بمعنی ظرف ہے نیز مصدر بمعنی ٹھہرنا بھی ہے فبئس القرار۔ پس (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Top