Anwar-ul-Bayan - Saad : 79
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب فَاَنْظِرْنِيْٓ : پس تو مجھے مہلت دے اِلٰى : تک يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : جس دن اٹھائے جائیں گے
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
(38:79) رب فانظرنی الی یوم یبعثون۔ رب : ای یا ربی اے میرے رب فانظرنی۔ فاء سببیہ ہے اور جملہ سابقہ اس جملہ کا سبب ہے۔ آدم کی دشمنی کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوجانا ہی اس مہلت طلبی کا سبب تھا۔ تاکہ وہ بنی آدم کو اغوا (گمراہ) کرسکے۔ انظرنی امر کا صیغہ ہے واحد مذکر حاضر، ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو مجھ کو مہلت دے تو مجھ کو ڈھیل دے۔ انظار (افعال) مصدر سے جس کے معنی مہلت دینے اور ڈھیل دینے کے ہیں۔ یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر سے۔ وہ اٹھائے جائیں گے (یعنی جس دن لوگوں کو زندہ کرکے قبروں سے اٹھایا جائے گا) روز قیامت۔
Top