Tafseer-e-Majidi - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور آپ یاد کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے،46۔
46۔ یعنی قوت عملی کے بھی مالک تھے اور قوت علمی کے بھی ..... انبیاء کرام عموما اپنے تمام قوائے علمی ونظری، عملی، جسمی کے لئے ممتاز رہے ہیں۔ (آیت) ” عبدنا “۔ اضافت تشریف و تکریم کی ہے، اور عبدیت خالصہ وخاصہ پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” الایدی والابصار “۔ دونوں اپنے مطلق مفہوم میں ہیں، اور ہر قسم کی قدرت اور ہر قسم کی بینائی کو شامل ہیں، جو شایان بشر اور سزاوار پیغمبر ہو۔ بعض نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ صاحب قوت تھے، نفس اور شیطان اور شیطانی قوتوں کے مقابلہ میں، اور صاحب بصیرت تھے۔ نفس اور فعل اور قلب اور روح کے معاملات میں، اور بعض نے اعمال ظاہری وباطنی کی جامعیت مراد لی ہے۔ اے اولی الاعمال الظاہرۃ والفکر الباطنۃ (مدارک)
Top