Tafheem-ul-Quran - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ 48
سورة صٓ 48 اصل الفاظ ہیں اولی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ (ہاتھوں والے اور نگاہوں والے)۔ ہاتھ سے مراد، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، قوت وقدرت ہے۔ اور ان انبیاء کو صاحب قوت وقدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے، اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں۔ نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ وہ حق ہیں اور حقیقت شناس لوگ تھے۔ دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔ ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو لوگ بد عمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں، دونوں سے محروم ہیں۔ ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے جو اللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے۔
Top