Maarif-ul-Quran - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے
تذکر ۂ اخلاص و فضائل ابراہیم واسحق ویعقوب و دیگر انبیاء کریم (علیہم السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرہیم واسحق ویعقوب ...... الی ...... لرزقنا مالہ من نفاد “۔ گذشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسحق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) و دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاص وانابت الی اللہ و دیگر فضائل کا بیان ہے جس سے یہ غرض ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ان علمی وعملی اور ظاہری وباطنی کمالات کو معلوم کرکے یہ سمجھا جائے کہ ان حضرات کے مراتب عالیہ اور حق تعالیٰ کی طرف سے انعامات ورحمتوں کی نوازش انہی اوصاف وخوبیوں کے باعث تھی اس لیے اگر کسی کو انعامات و فضائل کا شوق ہے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کے ان برگزیدہ پیغمبروں کے نقش قدم پر چلے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھے کہ ان انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب و انکار کرنے والوں کا انجام ہلاکت و بربادی اور ذلت کی صورت میں دنیا کی نظروں کے سامنے آیا اس لیے انبیاء (علیہم السلام) کا انکار وتکذیب کرنے والوں کو ان انجام سے غافل نہ رہنا چاہئے یہ واقعات عبرت ہیں ہر صاحب عقل کو ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے فرمایا اور یاد کرو ہمارے خاص بندوں ابراہیم واسحق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے کہ ان میں قوت عملیہ بھی کامل تھی اور قوت علمیہ بھی اور خاص کرلیا تھا ہم نے ان کو ایک خصوصی صفت کے ساتھ وہ تھی یاد آخرت کی کہ ہمہ وقت اسی کی فکر اور تیاری میں مصروف رہتے اور اپنی تمام عملی قوتوں اور نظر وفکر کی صلاحیتوں کو اسی کے لئے وقف کیئے ہوئے تھے وہ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالح میں ایسے کامل تھے کہ اپنے نفس پر غالب تھے طاقتور تھے نگاہوں سے عبرت کے واقعات اور دلائل قدرت دیکھتے رہتے بصر وبینائی کے اس کمال کے ساتھ بصیرت سے حق تعالیٰ کی معرفت کی بلندیوں تک پہنچے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ علم ومعرفت اور عمل کا کمال ہی اللہ کی بارگاہ میں تقرب اور فضیلت کا باعث ہے اور اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے اپنی ان تمام صلاحیتوں اور قوتوں کو آخرت کی فکر اور تیاری میں مصروف کیا ہوا تھا آخرت کے غم کے سوا اور کوئی فکر وغم ہی نہ تھا۔ غم دیں خور کہ غم غم دین است ہم غمہا فروتر ازین است ، اور بیشک یہ سب ہمارے نزدیک چنے ہوئے برگزیدہ اور نیک لوگوں میں ہیں جمہور قراء کے نزدیک (آیت) ” الایدی “ یا کے ساتھ ہے جو ید کی جمع ہے اور ید کے معنی ہاتھ کے ہیں تو اس لحاظ سے اولو الایدی سے عملی قوت والا ہونا مراد ہوا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کی تفسیر میں یہی فرمایا کرتے ” القوۃ فی العبادۃ “۔ اور ” الابصار “ سے مراد ” الفقہ فی الدین “۔ لیتے ہیں، بغض علماء نے ید کو بمعنی نعمت لیا ہے کہ یہ حضرات بڑے انعامات اور نعمتوں والے تھے۔ بعض قراء نے بغیر یا صرف ” اولے الاید “۔ پڑھا ہے تو لفظ اید بمعنی طاقت ہے تو مراد عبادت میں انکی، ہمت اور جفا کشی اور قوت کا بیان ہے اور یاد کرو اسمعیل (علیہ السلام) اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یہ سب بھی بہت ہی اچھے لوگوں میں ہیں اللہ کے یہاں ان کے درجات بھی ایسے ہی ہیں، جیسے کہ دیگر بیان کردہ برگزیدہ پیغمبروں کے اور ان کو بھی اللہ نے ایک خاص خوبی کے ساتھ چھانٹ لیا تھا اور وہ فکر آخرت تھی کہ اسی میں ان لوگوں نے بھی اپنی عملی اور علمی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو صرف کر رکھا تھا۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ کرنے کے بجائے مستقلا کیا گیا انکی خصوصی عظمت شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذوالکفل کا تذکرہ سورة انبیاء میں گذر چکا ” الیسع “ صاحب قاموس کہتے ہیں یہ لفظ عجمی ہے اس پر ال کا استعمال اس لفظ کی خصوصیت کا درجہ رکھتا ہے اس کے دیگر نظائر اور اعلام عجمیہ پر الف لام کا استعمال صحیح نہ ہوگا بعض ائمہ لغت نے اسکندر کو الف لام کے استعمال کی خصوصیت میں شامل کیا ہے شیخ سیوطی (رح) نے الاتقان میں اس کے لفظ عربی ہونے کو اختیار کیا ہے اور بیان کیا کہ یہ ” یسع “ مضارع سے منقول ہے ان کی حضرت الیاس (علیہ السلام) نے بنواسرائیل پر اپنا خلیفہ بنایا تھا بعد میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے یہ سب فضائل و کمالات یاد گار ہیں ان سب حضرات انبیاء کے اور شرف وفضل ہیں اور آنے والی نسلوں میں ان کا بہترین ذکر ہے کما قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وجعلنا لسان صدق علیا “۔ اور بیشک تمام تقوی والوں کے لیے بہترین ٹھکانا ہے اور وہ باغات ہیں ہمیشہ کے لیے بسنے کے جن کے دروازے انکے واسطے کھول دیئے گئے ہیں کہ اعزاز واکرام کا یہ مقام ہوگا کہ جب بھی وہ اپنے باغات ومحلات میں آئیں گے ان کے استقبال کے لیئے فرشتے دروازوں کو کھولے منتظر ہوں گے اس اعزاز واکرام کے ساتھ یہ مقام سکون و اطمینان ہوگا کہ تکیہ لگائے ہوں گے ان میں اعتماد وبھروسہ بھی ہوگا اللہ کی تمام رحمتوں اور عنایات پر اور وقار و سکون ہوگا جسمانی لحاظ سے منگائیں گے ان محلات و باغات میں بہت سے اقسام کے پھل اور میوے اور متعدد اقسام کے مشروبات ان تمام نعمتوں کے علاوہ عیش ولذت کا یہ بھی سامان ہوگا اور ان کے پاس عورتیں ہوگی جو نگاہوں کو نیچا رکھنے والی ہوں گی برابر ہوں گی عمر اور حسن و جمال میں جن کے حسن و جمال اور عفت ووقار سے اہل جنت کے انعامات و راحت میں مزید اضافہ ہوگا بیشک یہ ہیں وہ نعمتیں اور کرامتیں ہمارا عطا کردہ رزق جس کے واسطے نہیں ہے کوئی خاتمہ اور فنا وزوال اور اہل جنت ہمیشہ ان غیر منقطع اور لازوال نعمتوں سے متمتع ہوتے رہیں گے نہ ان راحتوں سے نکلنے اور نہ ان کے منقطع ہونے کا غم ہوگا اور نہ ہی اپنی موت کا اندیشہ ہوگا اس لیے کہ زوال وفنا تو دنیائے فانی کے خواص میں سے ہے دارالخلد تو بقاودوام کی جگہ ہے رزقنا اللہ تعالیٰ منھا بفضلہ وحسن عنایتہ فانہ اکرم الاکرمین وارحم الراحمین۔ امین۔
Top