Dure-Mansoor - Saad : 45
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عِبٰدَنَآ : ہمارا بندوں اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب اُولِي الْاَيْدِيْ : ہاتھوں والے وَالْاَبْصَارِ : اور آنکھوں والے
اور یاد کیجئے ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے
1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا پھر آپ کی اولاد کا ذکر فرمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی جمع کا صیغہ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے عبادت میں قوت والا ” والابصار “ سے مراد ہے اللہ کے امر میں بصیرت والے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی والابصار “ میں الید سے مراد ہے عمل میں قوت کا ہونا اور (آیت) ” والابصار “ سے مراد ہے جو ان کو اپنے دین کے معاملے میں بصیریت ہے۔ 5:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے اللہ کے حکم میں قوت (آیت) ” والابصار “ سے مراد ہے عقل۔ 6:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی والابصار “ سے مراد ہے قوت والی عبادت میں اور مدد کرنے والے دین میں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ (ہم نے ان کو ایک خاص بات کے لئے جو دار آخرت کا یاد کرنا ہے منتخب کرلیا تھا۔ یعنی ہم نے ان کو قیامت کے دن کے گھر کے ذکر کی وجہ سے خاص کرلیا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ سے مراد ہے آخرت کا ذکر اس کو اس کے علاوہ نہ کوئی غم ہے اور نہ کوئی فکر۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ یعنی اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خالص کرلیا کیونکہ وہ بلاتے تھے آخرت کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی طرف۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ یعنی جنت والوں کو اپنے فضل سے آخرت کے گھر کی یاد کے لئے خاص کرلیا) 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذکری الدار “ سے مراد ہے عقبی الدار یعنی اخرت کا گھر۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” والیسع “ تخفیف کے ساتھ اور اعمش (رح) ” ایسع “ کو تشدید کے ساتھ۔
Top