Tafseer-e-Baghwi - An-Nisaa : 111
كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ
كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ : دونوں باغ اٰتَتْ : لائے اُكُلَهَا : اپنے پھل وَلَمْ تَظْلِمْ : اور کم نہ کرتے تھے مِّنْهُ : اس سے شَيْئًا : کچھ وَّفَجَّرْنَا : اور ہم نے جاری کردی خِلٰلَهُمَا : دونوں کے درمیان نَهَرًا : ایک نہر
اور جو گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا ہے (اور) حکمت والا ہے
(تفسیر) 111۔: (آیت)” ومن یکسب اثما “ طعمہ کا جھوٹی قسم کھانا یہ گناہ کی بات ہے کہ اس نے چوری نہیں کی ، چوری تو یہودی نے کی (آیت)” فانما یکسب علی نفسہ “۔ جھوٹی قسم کھا کر اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ، (آیت)” وکان اللہ علیما “۔ زرہ کی چوری کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ (آیت)” حکیما “۔ اور چور کا ہاتھ کاٹنے میں حکم دیتا ہے ۔
Top