Tafseer-e-Baghwi - An-Nisaa : 137
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا
وَمَنْ : اور کون اَظْلَمُ : بڑا ظالم مِمَّنْ : اس سے جو ذُكِّرَ : سمجھایا گیا بِاٰيٰتِ : آیتوں سے رَبِّهٖ : اس کا رب فَاَعْرَضَ : تو اس نے منہ پھیرلیا عَنْهَا : اس سے وَنَسِيَ : اور وہ بھول گیا مَا قَدَّمَتْ : جو آگے بھیجا يَدٰهُ : اس کے دونوں ہاتھ اِنَّا جَعَلْنَا : بیشک ہم نے ڈال دئیے عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر اَكِنَّةً : پردے اَنْ : کہ يَّفْقَهُوْهُ : وہ اسے سمجھ سکیں وَ : اور فِيْٓ : میں اٰذَانِهِمْ : ان کے کان وَقْرًا : گرانی وَاِنْ : اور اگر تَدْعُهُمْ : تم انہیں بلاؤ اِلَى : طرف الْهُدٰى : ہدایت فَلَنْ : تو وہ ہرگز يَّهْتَدُوْٓا : نہ پائیں ہدایت اِذًا : جب بھی اَبَدًا : کبھی بھی
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے
تفسیر (56)” وما نرسل المرسلین… تا… بالباطل “ وہ اس بات کے متعلق جھگڑا کرتے تھے کہ کیا اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ولولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم “ کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا، یہ بھی کافروں نے کہا تھا کہ جو تم ذبح کرتے ہو وہ حلال ہے اور جو اللہ مار دے وہ حلال نہیں ۔ ” لید حضوا “ کہ وہ اس کو باطل کردے۔ ” بہ الحق “ دحض اصل میں کہا جاتا ہے پھسلنے کو، وہ باطل کے ذریعے سے جھگڑا کرکے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں۔ ” واتخذو ا ایاتی و ما انذرواھزواً “ آیات سے مراد وہ ہیں جو قرآن میں نازل کی گئی ہیں۔ ” ھزوا “ اس کا ٹھٹھا کرتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں۔
Top