Mafhoom-ul-Quran - Al-Baqara : 16
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا
وَلْيَخْشَ : اور چاہیے کہ ڈریں الَّذِيْنَ : وہ لوگ لَوْ تَرَكُوْا : اگر چھوڑ جائیں مِنْ : سے خَلْفِھِمْ : اپنے پیچھے ذُرِّيَّةً : اولاد ضِعٰفًا : ناتواں خَافُوْا : انہیں فکر ہو عَلَيْھِمْ : ان کا فَلْيَتَّقُوا : پس چاہیے کہ وہ ڈریں اللّٰهَ : اللہ وَلْيَقُوْلُوْا : اور چاہیے کہ کہیں قَوْلًا : بات سَدِيْدًا : سیدھی
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی خرید لی ہدایت کے بدلے سو نہ تو ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی نہ وہ ہدایت پانے والے ہوئے
گمراہی و خسارہ تشریح : اس آیت مبارکہ میں پھر منافقوں کی حماقت کا ذکر کیا گیا ہے یہ اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب اور کامیاب سمجھتے تھے اور اپنی عقل مندی پر بڑا گھمنڈ کرتے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا سودا کیا کہ منہ سے تو توحید کا کلمہ پڑھا اور دل میں کفر کی سیاہی رکھی اور یوں اپنی پوری عمر صرف کرکے دنیا کی عارضی خوشیاں، کامیابیاں اور آرام حاصل کرلیا، جبکہ یہ بڑے گھاٹے کا سودا انہوں نے کیا۔ فائدے کی تجارت تو یہ تھی کہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور آخرت کی ابدی آسائش حاصل کرتے۔ لیکن منافق لوگ ہدایت پانے والے نہ ہوئے اور اس طرح گمراہی اور خسارے کو کامیابی سمجھتے رہے۔
Top