Tafseer-e-Madani - Yaseen : 11
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں تُنْذِرُ : تم ڈراتے ہو مَنِ : جو اتَّبَعَ : پیروی کرے الذِّكْرَ : کتاب نصیحت وَخَشِيَ : اور ڈرے الرَّحْمٰنَ : رحمن (اللہ) بِالْغَيْبِ ۚ : بن دیکھے فَبَشِّرْهُ : پس اسے خوشخبری دیں بِمَغْفِرَةٍ : بخشش کی وَّاَجْرٍ : اور اجر كَرِيْمٍ : اچھا
آپ کا خبردار کرنا تو اسی شخص کو فائدہ دے سکتا ہے جو ڈرتا ہو (خدائے) رحمان سے بن دیکھے سو ایسوں کو خوشخبری سنا دو ایک بڑی بخشش اور عزت والے اجر کی1
14 خدائے رحمن کی شان رحمانیت کے تقاضے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کا انذار تو انہی لوگوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے جو خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں "۔ پس جو خدائے رحمن کی بطش و گرفت سے ڈرے اور اس کی رضا کی طلب میں نصیحت کا محتاج ہو کر اس کی طلب و تلاش میں رہے تو اس کو یقینا آپ ﷺ کے انذار اور آپ ﷺ کی تبلیغ سے فائدہ پہنچے گا۔ سو خداوند قدوس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا خوف اور اس کی رضا و خوشنودی کی فکر و طلب اساس و بنیاد ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں دو اہم اور بنیادی حقائق کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ جو لوگ صرف محسوسات کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں وہ غیبی حقائق اور آنے والے عذاب کو اس وقت تک ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ وہ انکو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں۔ تو ان پر کسی وعظ و تذکیر کا کوئی اثر نہیں ہوتا کہ ایسے لوگوں کے قوائے فکر و ادراک سب کے سب کند اور ماؤف ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہ ایسے حیوان بن کر رہ جاتے جو عذاب کا کوڑا برسنے پر ہی مانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری اہم حقیقت اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرما دی گئی کہ خدائے رحمن کی رحمانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ کیونکہ اس کے رحمان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ و بدلہ دے اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دے۔ اور اسی کیلئے اس نے قیامت کا دن مقرر فرمایا ہے جہاں اس کے کمال رحمت و عدل کا ظہور ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین۔ 15 ایمان بالغیب رکھنے والوں کے لیے عظیم الشان بشارت و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنے والوں کو عظیم الشان بخشش اور اجر کریم کی خوشخبری سنا دو "۔ یعنی گناہوں کی معافی اور اس کے بعد جنت کی بےمثال و لازوال نعمتوں سے سرفرازی کی خوشخبری کہ یہ دونوں عظیم الشان نعمتیں نصیب ہوں گی ہر ایسے شخص کو جس نے اپنی زندگی خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہوئے گزاری ہوگی۔ اس سے بڑھ کر اجر کریم یعنی عزت والا اجرو ثواب اور کوئی ممکن نہیں ہوسکتا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ایسے لوگوں سے جو معاصی وذنوب بشری تقاضوں کی بنا پر ان کی دنیاوی زندگی میں سرزد ہوگئے ہوں گے وہ ربِّ رحمن و رحیم انکے ایمان بالغیب اور خدائے رحمن سے بن دیکھے ڈرنے کے باعث اپنی رحمت و عنایت سے انکے ایسے تمام معاصی وذنوب کی بخشش فرما دے گا کہ وہ خدائے رحمن بڑا ہی مہربان، انتہائی بخشنے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ اور انکو وہ جنت کی ان نعمتوں سے نوازے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی دل پر انکا گزر ہی ہوا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ اللہ فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
Top