Tafseer-e-Madani - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور ان کے حق میں برابر ہے کہ آپ ﷺ ان کو خبردار کریں یا نہ کریں انہوں نے بہرحال ایمان نہیں لانا
13 ہٹ دھرم نور حق و ہدایت سے محروم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہٹ دھرموں پر کلام حق و ہدایت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ جب ایمان لانا چاہتے ہی نہیں تو پھر ایسے ہٹ دھرموں کو ایمان کی دولت نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ کہ " میں نہ مانوں " (I never Agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ ورنہ حضرت واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے عطا و بخشش کے خزانے تو لگاتار تقسیم ہو رہے ہیں اور اس سَخّائُ اللّیل والنّہار کی لامتناہی عطا و بخشش میں کبھی پل بھر کے لئے بھی کوئی انقطاع نہیں ہوتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر واضح رہے کہ یہاں پر۔ { سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ } ۔ فرمایا گیا ہے " علیک " نہیں۔ یعنی یہ عدم نفع ان لوگوں کے اعتبار سے ہے۔ اور ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے آپ ﷺ کے لئے نہیں اے پیغمبر !۔ آپ ﷺ کے لئے تو بہرحال فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ایک تو اجر وثواب کے لحاظ سے اور دوسرا اس اعتبار سے کہ انہی لوگوں میں سے اچھے اور اہل خیر افراد بھی اسی تبلیغِ حق کے سبب سے ملتے رہیں گے۔ البتہ ان لوگوں کے حق میں اس انذار و تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں۔ انکو یہ تبلیغ تو صرف الزام اور قطع حجت کیلئے کی جا رہی ہے تاکہ یہ لوگ کل قیامت میں یوں نہ کہہ سکیں کہ انکو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور فساد و خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top