Madarik-ut-Tanzil - Al-Maaida : 56
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ
فَاِنْ : پھر اگر زَلَلْتُمْ : تم ڈگمگا گئے مِّنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا : جو جَآءَتْكُمُ : تمہارے پاس آئے الْبَيِّنٰتُ : واضح احکام فَاعْلَمُوْٓا : تو جان لو اَنَّ : کہ اللّٰهَ : اللہ عَزِيْزٌ : غالب حَكِيْمٌ : حکمت والا
اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔
آیت 56 : وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا یتولّی کا معنی دوست بنانا۔ یا دوست ہونا۔ فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے۔ یعنی فانہم ہم الغالبون کی بجائے ان حزب اللّٰہ فرمایا۔ یا حزب سے رسول اللہ ﷺ اور مومن مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے ان سے دوستی اختیار کی تو اس نے اللہ کے لشکر سے دوستی کی۔ اور اس سے بھائی بندی کرلی جو مغلوب نہیں ہوتا۔ الحزب کا معنی کسی پیش آنے والے کام کے لئے جو لوگ جمع ہوتے ہیں۔
Top