Tafseer-e-Mazhari - Al-Ankaboot : 23
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ
فَمَا كَانَ : سو نہ تھا جَوَابَ : جواب قَوْمِهٖٓ : اس کی قوم اِلَّا : سوائے اَنْ : یہ کہ قَالُوا : انہوں نے کہا اقْتُلُوْهُ : قتل کردو اس کو اَوْ حَرِّقُوْهُ : یا جلا دو اس کو فَاَنْجٰىهُ : سو بچا لیا اس کو اللّٰهُ : اللہ مِنَ النَّارِ : آگ سے اِنَّ : بیشک فِيْ ذٰلِكَ : اس میں لَاٰيٰتٍ : نشانیاں ہیں لِّقَوْمٍ : ان لوگوں کے لیے يُّؤْمِنُوْنَ : جو ایمان رکھتے ہیں
اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
والذین کفروا بایت اللہ . اور جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ یعنی اللہ کی وحدانیت کے دلائل اور ان آیات کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی کتابوں میں نازل فرمائی ہیں۔ ولقآۂ . اور اللہ سے ملنے کا ‘ یعنی قیامت کا۔ اولئک یئسوا من رحمتی . وہ (قیامت کے دن) میری رحمت سے ناامید ہوں گے۔ یا رحمت سے مراد ہے جنت ‘ یعنی کافر دنیا میں ہی جنت سے ناامید ہیں کیونکہ قیامت کے ہی منکر ہیں۔ واولئک لھم عذاب الیم . اور انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ اگر یہ حضرت ابراہیم کے کلام کا حصہ ہے تو لفظ قال اللہ محذوف ہوگا ‘ یعنی اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ جنہوں نے کفر کیا اور اگر حضرت ابراہیم کے کلام کا جز اس کو نہ قرار دیا جائے تو جملہ معترضہ ہوگا جو حضرت ابراہیم کے کلام کے درمیان ذکر کردیا گیا اور اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم کے قصہ کی طرف رجوع کیا۔
Top