Tafseer-e-Mazhari - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو۔ ضغث مٹھی بھر درخت کی ٹہنیاں یا گھاس ‘ یعنی ایک مٹھا سینکوں کا ہاتھ میں لے کر اپنی بیوی کے مارو اور اپنی قسم پوری کرلو۔ حضرت ایوب نے قسم کھائی تھی کہ بیوی کے سو (100) کوڑے ماریں گے (ا اللہ نے قسم پوری کرنے کیلئے آپ کو یہ سہولت دی) آپ نے حسب الحکم اذخر (مرچیاگند) وغیرہ کی سو شاخیں لیں اور مٹھا بنا کر ایک بار بی بی کے مار دیا ‘ اس طرح آپ کی قسم پوری ہوگئی۔ انا وجدنہ صابرا (ان کب جو جانی ‘ مالی اور عیالی دکھ پہنچا تھا) ہم نے (اس دکھ پر) ان کو صابر پایا۔ یہ جملہ عطاء صحت اور موہبت مال و عیال کی علت ہے۔ حضرت ایوب نے شیطان کی درازدستی کا اللہ سے شکوہ ضرور کیا تھا لیکن یہ شکوہ صبر کے منافی نہیں۔ اس کو بےصبری اور جزع نہیں کہا جاسکتا ‘ عافیت کی آرزو اور شفا کی طلب کو بےصبری نہیں کہہ سکتے۔ اس مقام پر ہمارے شیخ شہید (یعنی حضرت مرزا جان جاناں شہید) کا بہت اونچا کلام ہے ‘ آپ نے فرمایا : جب حضرت ایوب (علیہ السلام) دکھ اور مصیبت پر برسوں صبر کرچکے اور اللہ نے چاہا کہ ان کے دکھ اور تکلیف کو دور کر دے تو ان کے دل میں یہ بات خود ہی پیدا کردی کہ اللہ تجھ سے دعا اور زاری کا خواستگار ہے ‘ تو بارگاہ الٰہی میں اپنی عاجزی اور احتیاج کا اظہار کر ‘ تاکہ اللہ اس مصیبت کو دور کر دے۔ چناچہ آپ نے اپنے طبعی تقاضا کے خلاف جو صبر کا خواستگار تھا ‘ مرضی رب کو حاصل کرنے کیلئے دعا اور زاری کو ترجیح دی ‘ اس طرح مقام صبر سے ترقی کر کے مقام رضا میں پہنچ گئے اور اللہ نے بھی آپ کے صبر کی قدردانی کی اور فرمایا : انّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا اور مقام رضا پر پہنچنے کا اگلی آیت میں اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا : نعم العبد انہ اواب وہ اچھا بندہ تھا ‘ بلاشبہ وہ (مکمل طور پر) اللہ کی طرف توجہ کرنے والا تھا۔
Top