Tadabbur-e-Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے اپنے کو مارلے اور اپنی قسم میں حانث نہ ہو۔ ہم نے اس کو نہایت صابر پایا۔ خوب بندہ ! بیشک وہ بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا
وخذبیدک ضعثا فاصرب بہ ولاتحنث، انا وجدنہ صابراً نعم العبد انہ اداب (44) حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس کی ذمہ داری سے بریت اس دور ابتلاء میں معلوم ہوتا ہے حضرت ایوب کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا جو صبر اور انابت الی اللہ کے منافی تھا اس پر اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے انہوں نے یہ قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا کوڑوں کی تعداد مذکورہ نہیں ہے۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ ان کی خشیت اور محبت الٰہی کا نتیجہ تھا لیکن بندوں کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی ن اورا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خدا کی خونشودی ہی کے لئے ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ذمہ داری سے ان کو بری قرار دے دیا لیکن قسم کا معاملہ چونکہ دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے، اسی پر تمام عہد و پیمان کی بنیاد ہے اس وجہ سے ان کو یہ ہدایت ہوئی کہ جتنے کوڑے مارنے کی قسم کھائی ہے اتنے سینکوں کا ایک مٹھالے کر اپنے کو مار لیں ات کہ رسمی طور پر قسم پوری ہوجائے اور دل پر قسم توڑنے کا بار نہ رہے۔ دین میں اسی چیز کا اہتمام ہے کہ اگر کسی حکم کی تعمیل اس کی اصلی صورت میں متعذر ہو تو اس کی تعمیل شبہی صورت میں ضرور کی جائے تاکہ اس کی یاد قائم رہے۔ وضو نہ کرسکنے کی صورت میں تمیم رکوع اور سجدہ نہ کرسکنے کی صورت میں اشارہ پر کفایت کرنے کی ہدایت اسی اصل پر مبنی ہے کسی کفارہ کی ہدایت بھی ان کو ہو سکتی تھی لیکن اس وقت حضرت ایوب ؑ نے کوئی مالی کفارہ ادا کرنے کے قابل تھے نہ جسمانی مال سے وہ بالکل محروم ہوچکے تھے اور بیماری نے اس طرح چور کردیا تھا کہ روزے رکھنے کے قابل بھی نہیں رہ گئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ خاص رعایت فرمائی۔ مفسرین نے عام طور پر یہ سمجھا ہے کہ قسم انہوں نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی کھائی تھی لیکن قرار میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اور قرینہ بھی اس کے خلاف ہے اس لئے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور ابتلاء میں صرف ان کی بیوی ہی کی اکیلی ذات تھی جس نے رات دن حضرت ایوب کی خدمت کی۔ ایسی وفا داری بیوی پر یہ عتاب بعید از عقل ہے۔ فقہاء نے اس سے حیلہ شرعی کا جواز بھی نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ موضوع ایک مستقل موضوع ہے۔ اس پر ہم انشاء اللہ کے محل میں گفتگو کریں گے۔ یہاں بحث صرف آیت کے سیاق وسباق تک محدود رکھیے۔ انا وجدنہ صابراً سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جس وسوسہ پر انہوں نے مذکورہ بالا قسم کھائی اس میں شیطان نے ان کے بعد ہی کو متزلزل کرنے کی کوشش کیت ھی لیکن وہ صبر کی چٹان پر جمے رہے۔ نعم العبد انہ اواب بعینہ یہی الفاظ اوپر حضرت سلیمان ؑ کی تعریف میں بھی وارد ہوئے ہیں۔ اس سے ان تمام واقعات کے اشتراک مقصد پر بھی روشنی پڑتی ہے اور یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اچھا بندہ بننے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے دل کے اندر کسی گناہ کا خطور نہ ہو بلکہ یہ کافی ہے کہ آدمی جب کسی لغزش کا احساس کرے تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور حق پر ثابت قدم رہے۔
Top