بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mualim-ul-Irfan - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص ، قسم ہے نصیحت والے قرآن کی ۔
(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود برحق صرف ایک ہی ہے اور اس سورة کی ابتداء میں کفار کے تعجب کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھاواحد “۔ کیا اس شخص نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کردیا ہے ؟ اس سورة مبارکہ میں مسئلہ رسالت پر خاص طور پر روشنی ڈالی گئی ہے اور تکذیب رسالت کو مہلک قرار دیا گیا ہے تاریخ رسالت کے ضمن میں بعض انبیاء مثلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) الیسع (علیہ السلام) ، ذوالکفل (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے ، ان میں سے بعض کا ذکر مقام شکر کے طور پر اور بعض کا صبر وابتلا کے مقام میں ذکر ہوا ہے اس سورة میں شیاطین اور جنات کا ذکر بھی آیا ہے اور ابلیس کی سرکشی اور نافرمانی کا تذکرہ بھی ہے فرشتوں کی بلند ترین جماعت ملاء علی کا ذکر بھی اس سورة میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور مجرم لوگوں سے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور معاند لوگوں کے شکوک و شبہات کا تدارک ہے حضور ﷺ سے تسلی کا مضمون بھی اس سورة کا حصہ ہے ۔ (شان نزول) ترمذی اور مستدارک حاکم وغیرہ میں یہ صحیح حدیث (1) (ترمذی ص ومستدرک حاکم) موجود ہے کہ حضرت علی ؓ کے والد اور حضور ﷺ کے چچا ابو طالب حضور ﷺ کے بڑے خیر خواہ اور ہمدرد تھے مگر آخر دم تک ایمان قبول نہیں کیا جب ابو طالب بیمار ہوئے تو سردارن قریش بمع ابوجہل ان کے پاس آئے اس وقت حضور ﷺ بھی اپنے چچا کے پاس موجود تھے ، سرداران قریش نے ابو طالب سے شکوہ کیا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے بتوں کی مذمت کرتا ہے لہذا آپ اسے سمجھائیں کہ یہ ہمارے جذبات کو مجروح نہ کیا کرے اس پر ابو طالب نے حضور ﷺ سے استفسار کیا ” یا بن اخی ما ترید من قوم “۔ اے میرے بھتیجے ! تم قوم سے کیا چاہتے ہو ، ” قال ارید کلمۃ تدین بھا لھم العرب وتؤدی الیھم العجم والجزیۃ “ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں اگر یہ اس کو تسلیم کرلیں تو پورا عرب ان کے تابع ہوجائے گا اور عجم کے لوگ انکو جزیہ ادا کرنے لگیں گے یعنی اس ایک کلمہ کو اپنا لینے سے ان کی کایا پلٹ جائیگی ، ابو طالب نے نہایت تعجب سے پوچھا کیا صرف ایک کلمہ کی وجہ سے ؟ فرمایا ہاں ” یاعم قولو لا الہ الا اللہ “۔ اے چچا ! تم سب کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یہی وہ عظیم کلمہ ہے جس کی وجہ سے عرب عجم تمہارے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اس موقع پر وہ سب کہنے لگے ” الہ واحد ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “۔ کیا صرف ایک معبود ؟ ہم نے تو یہ بات اپنے آباؤ اجداد سے کبھی نہیں سنی ، کہنے لگے ” ان ھذا الا اختلاق “ یہ تو من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے ، اور پھر یہ کہہ کر وہاں سے چل دیے اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرما کر کفر وشرک کا رد اور کفار ومشرکین کی مذمت بیان کردی ۔ (حروف مقطعات) اس سورة کی ابتداء حرف مقطع ص سے ہوئی ہے مختلف سورتوں کی ابتداء میں آنے والے حروف مقطعات کے متعلق اپنے اپنے مقام پر کچھ تشریح کردی گئی ہے اور لوگوں کی تقریب فہم کے لیے مفسرین کے بیان کردہ بعض معانی بھی بیان کیے جا چکے ہیں تاہم سلامتی والا راستہ وہی ہے جو امام جلال الدین سیوطی (جلالین ص 4) اور بعض دیگر مفسرین کرام نے اختیار کیا ہے کہ ان حروف کے متعلق یہی عقیدہ رکھنا چاہئے ، ” اللہ اعلم بمرادہ بذلک امنا وصدقنا “۔ یعنی ان حروف کی حقیقی مراد کو اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کی ان حروف سے جو بھی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ قرآن پاک میں بعض ایسے حروف بھی موجود ہیں جن کا مفہوم واضح نہیں ہے یا وہ سمجھ میں نہیں آسکتا تو ویہ چیز بعض ناپختہ اذہان کے لیے شک وتردد کا باعث بنتی ہے ، چناچہ مفسرین کرام نے ایسے لوگوں کے اذہان کو ان حروف سے قریب تر کرنے کے لیے ان کے بعض معانی بیان کیے ہیں یہ معانی اگرچہ قطعی اور یقینی نہیں ہیں تاہم چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں سے حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے بھی کچھ وضاحت منقول ہے لہذا بعد کے مفسرین نے بھی لوگوں تقریب فہم کے لیے کچھ معانی بیان کیے ہیں ۔ (حرف ص) بعض مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ ص سورة کا نام ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سورة اسی نام سے موسوم ہے تاہم بعض مفسرین (2) فرماتے ہیں کہ حرف ص اللہ تعالیٰ کے کسی ایسے اسم پاک کی طرف اشارہ ہے جس میں حرف ص آتا ہے جیسے ” صمد “ اس سورة مبارکہ میں توحید خداوندی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے گویا یہ خدا تعالیٰ کی صمدیت کا ذکر ہے ، شیخ سعدی (رح) نے بوستان میں کہا ہے (3) ۔ دل اندر صمد باید سے دوست بست کہ عاجز تراست از صنم ہر کہ ہست : اے دوست صرف صمد کی ذات میں دل لگانا چاہئے کیونکہ اس کے سوال تمام چیزیں صنم سے بھی زیادہ عاجز ہیں اگر کوئی مختار مطلب ، قادر مطلق ہمہ دان اور ہمہ بین ہستی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو صمد ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (4) کہ حرف ص لفظ صانع میں بھی آتا ہے ۔ اور صانع مخلوقات اللہ تعالیٰ ہے لہذا یہ اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ص سے مراد صدق بھی ہوسکتا ہے یعنی ” صدق اللہ وصدق رسولہ “ جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے وہ سچ ہے اس سورة کی پہلی آیت ہے (آیت) ” والقران ذی الذکر “ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی اس میں ص سے مراد نصیحت بھی ہو سکتی ہے اور دوسری اس آیت میں خبر محذوف یہ ہے کہ محمد ﷺ اپنے دعوی رسالت میں سچے ہیں قرآن بھی سراپا نصیحت ہے اور ” الدین النصیحۃ “۔ دین بھی نصیحت کو ہی کہا جاتا ہے ، لہذا ص سے دین بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔ جب قرآن پڑھا جاتا تھا تو مشرک لوگ شور وغل پیدا کرنے کے لیے سیٹیاں یعنی صفیر بجایا کرتے تھے ، ہوسکتا ہے کہ اس سے مشرکین کی مذمت کی طرف اشارہ ہو ، حرف ص صد یا صارفہ میں بھی آتا ہے جس کا معنی رکاوٹ اور ہٹا دینا ہوتا ہے ممکن ہے ص کا اشارہ اس طرف ہو ص کا حرف قصص میں بھی پایا جاتا ہے امکان ہے کہ اس کا اشارہ اس سورة میں مذکورہ عبرت آموز واقعات کی طرف ہو ، حرف ص کا تعلق اس سورة میں آمدہ بعض کلمات سے بھی ہے لہذا ممکن ہے کہ ص کا اشارہ ان کلمات کی طرف ہو ، مثلا اللہ نے (آیت) ” اصبر علی ما یقولون “۔ (آیت : 17) کہہ کر حضور ﷺ کو کفار ومشرکین کی ایذا رسانیوں پر صبر کی تلقین کی ہے اس سورة میں (آیت) ” سواء الصراط “۔ (آیت : 33) یعنی سیدھے راستے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ، اس حرف ص کا اشارہ اللہ کے مخلص بندوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ یہاں پر آیت بھی ہے (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ اس سورة مبارکہ میں نبؤ الخصم “۔ (آیت ، 21) کا ذکر بھی ہے جب کہ بعض آدمی جھگڑتے ہوئے دادؤ (علیہ السلام) کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے آئے تھے ، اس لفظ میں بھی حرف ص آتا ہے ۔ آیت 56 میں (آیت) ” یصلونھا “ کا لفظ آتا ہے جس میں کافروں کے جہنم میں داخلے کا ذکر ہے یہاں بھی ص موجود ہے پھر آیت نمبر 52 (آیت) ” قصرت الطرف “ کا لفظ ہے جس سے مراد نیچی نگاہیں رکھنے والی حوریں ہیں جو جنت میں حاصل ہوں گی ممکن ہے یہ اس طرح اشارہ ہو آیت 41 میں حضرت ابوب (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے رب کو پکار کر کہا کہ مجھے شیطان نے اذیت پہنچائی ہے (آیت) ” بنصب و عذاب آیت 37 میں (آیت) ” غواص “۔ کا لفظ آتا ہے یعنی غوطہ خور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مفید چیزیں سمندروں سے نکال کر لاتے تھے یعنی غوطہ خور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مفید چیزیں سمندروں سے نکال کر لاتے تھے ، داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے عمدہ گھوڑوں کا ذکر بھی آیت 31 میں آیا ہے (آیت) ” الصفنت الجیاد “۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے (آیت) ” فصل الخطاب “ کا تذکرہ آیت 20 میں آیا ہے اسی طرح (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ کا ذکر آیت 13 میں ہے ، آیت 15 میں (آیت) ” صیحۃ واحدۃ کا ذکر ہے کہ ایک ہی چیخ نافرمانوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے کافی ہے آیت 3 میں (آیت) ” حین مناص “ کے الفاظ آئے ہیں جس کا معنی خلاصی اور رہائی ہے یعنی جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو پھر رہائی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی غرضیکہ مذکور تمام کلمات میں حرف ص کی موجودگی ان کلمات کی طرف اشارہ پر دلالت کرتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کشفی اور ذوقی طریقے پر اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں کہ حرف ص کا اشارہ انبیاء (علیہ السلام) کے مقام قدسی کی طرف سے جو انہیں ان کے علوم اور وجاہت کے اعتبار سے حاصل ہوتا ہے ، یاد رہے کہ ذوقی طریقے سے بیان کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو عقلی یا نقلی دلائل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ اللہ نے بذریعہ کشف یہ معانی آپ کے ذہن میں منکشف کردیے ہیں ، گویا حرف ص میں عالم بالا کے صعود ارتفاع یا بلندی کا ذکر کیا گیا ہے تاہم اس میں انتہائی درجے کی صفائی اور لطافت بھی شامل ہوتی ہے چونکہ یہ تمام چیزیں سورة ہذا میں موجود ہیں لہذا شاہ صاحب (رح) کا نظریہ یہ ہے کہ اس سورة کا لب لباب ایسے حروف کے ذریعے بیان کردیا جاتا ہے ۔ (قرآن ذی الذکر) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والقران ذی الذکر “ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی ظاہر ہے کہ قرآن سراسر نصیحت ہے ، اس کے لیے ذکر اور تذکرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں ، (آیت) ” ذی الذکر “ کا معنی شرف والا بھی ہوتا ہے جیسے سورة الزخرف میں ہے (آیت) ” وانہ لذکرلک ولقومک (آیت : 144) بیشک یہ قرآن آپ کے اور آپ کی قوم کے لیے عزت وشرف کا باعث ہے اس طرح آیت کا مطلب ہوگا قسم ہے شرافت والے قرآن کی اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن سے بڑھ کر شرافت والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے ۔ (کفار کی بدبختی) فرمایا بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ بالکل سچ فرماتے ہیں (آیت) ” بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق “۔ مگر کفر کرنے والے لوگ تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا قرآن کی قسم کی خبر محذوف ہے اور یہ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی ہے ، عزت کا معنی غلبہ ہوتا ہے اور عزیز اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے تاہم اس آیت مبارکہ میں عزت سے مراد اکٹر اور تکبر ہے جو کہ صرف اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے اور کسی مخلوق کے لیے روا نہیں ، مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ قرآن پاک کی ہدایت اور نصیحت کے مقابلے میں غرور وتکبر کا اظہار کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ شقاق یعنی مخالفت میں پڑے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا کفار اس معاملہ میں غور نہیں کرتے کہ (آیت) ” کم اھلکنا من قبلھم من قرن “۔ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا ہے انہوں نے سرکشی کی ، اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا پھر جب ہمارا عذاب آن پہنچا (آیت) ” فنادوا “ تو وہ پکارنے لگے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے (آیت) ” ولات حین مناص “ مگر خلاصی اور رہائی کا وقت گذر چکا تھا لہذا ہماری گرفت آکر رہی ۔ یہاں پر آمدہ لفظ ” لات “ دراصل لا ہی ہے اور اس میں ت زائد ہے لات لیت کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی انہ ہے حین کا معنی وقت اور مناص کا معنی خلاصی ہے مطلب یہی ہے کہ نافرمان لوگوں نے عذاب کو دیکھ کر اس وقت چیخ و پکار کی جب خلاصی کا وقت گذر چکا تھا ، (تکذیب و رسالت) کفار مکہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کیونکہ اس طرح ان کی قیادت وسیادت ختم ہوتی تھی اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے نظریہ تکذیب رسالت کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” عجبوا ان جآء ھم منذر منھم “۔ کیا یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا انہی کی برادری اور خاندان کا ایک کمزور آدمی جو انہی کی زبان بولتا ہے نبی بن کر آجائے ، کہتے تھے کہ یہ ہمارے ہاتھوں پیدا ہوا ، بڑھا اور جوان ہوا اور آج ہمارے ہی سامنے نبوت کا دعوی کررہا ہے ، بھلا اس میں کون سی خوبی ہے جو ہم سے زیادہ ہے اور جس کی بنا پر اسے رسول منتخب کیا گیا ہے کہتے تھے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی ہی بنانا تھا تو اس منصب کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا (آیت) ” وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “۔ (الزخرف : 31) کہتے تھے یہ قرآن مکہ اور طائف کی بسیتوں میں سے کسی بڑے سردار پر کیوں نہ نازل ہوا ۔ ؟ فرمایا (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب “ کافر کہتے تھے کہ نبوت کا دعویدار یہ شخص جادوگر ہے اور جھوٹا ہے ، العیاذ باللہ ، یہی بات فرعون نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے متعلق بھی کہی تھی ، بہرحال مشرکین مکہ نے نبی آخر الزمان کی رسالت کا نہ صرف انکار کردیا بلکہ الٹا الزام تراشی بھی کی ۔ (وحدانیت پر تعجب) ان ظالموں نے نے رسالت کا ہی انکار نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی روحانیت کی بھی عجیب طریقے سے تردید کی ، کہنے لگے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا “۔ کیا اس نے سب معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا ہے ؟ کیا ہم اتنے سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی عبادت کریں (آیت) ” ان ھذا لشیء عجاب “۔ یہ تو بڑی تعجب انگیز بات ہے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی اور نہ ہی ہم نے اپنے بڑوں سے ایسی کوئی بات سنی ہے ہمارے آباؤ و اجداد تو مختلف معبودوں کی نذر ونیاز پیش کرتے آرہے ہیں ان سے مرادیں مانگتے رہے ہیں ان کی مختلف حاجات مختلف معبود پوری کرتے تھے ، بھلا ان سب کی بجائے یہ سارے کام صرف ایک معبود کیسے انجام دے سکے گا ، یہ تو بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے ۔ اس قسم کی بات کرنے کے بعد (آیت) ” وانطلق الملاء منھم “۔ ان میں سے ایک گروہ چل کھڑا ہوا اور کہنے لگا اس شخص کی باتوں پر غور نہ کرو بلکہ ان امشوا “ یہاں سے چلے آؤ (آیت) ” واصبروا علی الھتکم “ اور اپنے انہی معبودوں پر جمے رہو جن کی یہ مذمت بیان کرتا ہے صبر کا معنی برداشت کرنا ہوتا اور مطلب یہ ہے کہ اپنے پرانے معبودوں کو ہی برداشت کرو ، انہی پر ٹکے رہو اور اس شخص کی باتوں میں نہ آؤ (آیت) ” ان ھذا لشیء یراد “۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی غرض مخفی ہے یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے ہٹا کر اپنے طریقے پر دین اور دین پر لانا چاہتا ہے اور تمہاری قیادت اور سیادت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لہذا اس کی باتوں میں نہ آنا اور اپنے معبودوں پر پختہ یقین رکھنا آیت کے اس حصے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے سابقہ معبودوں پر جمے رہنا ایک مقصود چیز ہے اس کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کرکے تمہارے مال و دولت اور اقتدار پر بھی قابض ہونا چاہتا ہے لہذا اس کی دعوت کو قبول نہ کرنا ۔ پھر کہنے لگے (آیت) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “۔ پچھلی امت میں تو ہم نے ایسی کوئی بات نہیں سنی پچھلی ملت سے مراد یا تو ان کے آباؤ اجداد ہیں اور یا پھر اس سے نصاری مراد ہیں کہتے تھے کہ عیسائی بھی تو صاحب کتاب ہیں مگر انہوں نے تو کبھی ایک معبود کو ماننے کا دعوی نہیں کیا بلکہ وہ بھی تثلیث یعنی تین خداؤں باپ ، بیٹا اور روح القدس کے قائل ہیں بھلا محمد ﷺ نے ایک معبود کا نظریہ کہاں سے پیش کردیا ، کہ نہ ہمارے باپ دادا اس نظریہ سے واقف تھے اور نہ پہلے مذہب والے اس کو تسلیم کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے (آیت) ” ان ھذا الا اختلاق “ یہ تو محض من گھڑت نظریہ ہے کہ معبود برحق صرف ایک ہے بھلا ایک ہی خدا کائنات کے سارے امور کیسے انجام دے سکتا ہے اس بات کو ذہن بھی قبول نہیں کرتا یہ سلسلہ کلام آگے دور تک چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گندی ذہنیت کا پردہ چاک کیا ہے ۔
Top