Ruh-ul-Quran - Saad : 11
جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ
جُنْدٌ : ایک لشکر مَّا : جو هُنَالِكَ : یہاں مَهْزُوْمٌ : شکست خوردہ مِّنَ الْاَحْزَابِ : گروہوں میں سے
جتھوں میں سے ایک جتھہ اسی جگہ شکست دیا جائے گا
جُنْدٌمَّا ھُنَا لِکَ مَھْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ۔ (صٓ: 11) (جتھوں میں سے ایک جتھہ اسی جگہ شکست دیا جائے گا۔ ) قریش کے لیے تنبیہ بھی اور پیش گوئی بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی ہے اور قریش اور دیگر مخالفین کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے۔ ھُنَا لِکَ سے شاید مکہ معظمہ کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اور قریش کی یہ تمام مجہول باتیں اور ان کی تمام تعلیاں اسی شہر کی داستان ہیں۔ چناچہ قصہ ٔ زمین برسرزمین کے طور پر پروردگار انھیں وارننگ دے رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو، ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسی شہر میں جو تمہاری رعونتوں کا مرکز ہے تم اپنی ساری رعونتوں اور تکبروں سمیت شکست خوردہ لشکر کی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے کھڑے ہو گے اور نہایت لجاجت کے ساتھ اس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگو گے۔ اور جس پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو آج تم حقیر سمجھ رہے ہو انھیں کے سامنے تم غلاموں کی طرح کھڑے کیے جاؤ گے۔ اور تمہاری قسمتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے رسول کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ ایمان لانے والے عزت کی علامت ہوں گے اور کفر کے بڑے بڑے سردار غلاموں کی طرح سرجھکائے کھڑے ہوں گے۔ آج ہی فیصلہ کرلو تمہیں کس طرف کھڑے ہونا ہے۔
Top