Ruh-ul-Quran - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا، وہ شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ ۔ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً ط کُلٌّ لَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 18، 19) (بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے، وہ شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اور پرندے سمٹ آتے، سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کی اوّابّیت کا نمونہ اس سے پہلے کی آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی صفت کی وضاحت کی جارہی ہے کہ ان کی اوّابیّت کا حال یہ تھا کہ وہ صبح و شام دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت میں کیسی برکت دی تھی کہ دن بھر لوگوں کے معاملے سنتے اور انھیں انصاف دیتے، ملک بھر سے آئی ہوئی اطلاعات سے متعلق فیصلے کرتے، مخالف قوتوں سے چھیڑچھاڑ جاری رہتی تھی اس لیے وقتاً فوقتاً جہاد کا فرض بھی انجام دیتے۔ ایک بہت بڑی آبادی کے حکمران ہونے کی وجہ سے معاملات و تنازعات کا ہجوم ہوتا، لیکن آپ نہایت احسن طریق سے ان سے عہدہ برآ ہوتے۔ ان تمام مصروفیات کے باوجود صبح بھی اور شام بھی جب خلق خدا سو رہی ہوتی آپ پہاڑوں کے دامن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو لحن دائودی عطا فرمایا تھا اس سے زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور اڑتے ہوئے پرندے بھی آپ کے اردگرد اتر آتے اور جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر آپ کے سُر میں اپنے سُر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ جانے ان کے پرسوز لحن میں کیسی تاثیر اور تسخیر رکھی تھی کہ اردگرد کی پوری فضاء ان کی صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی۔ بعض لوگوں نے اسے تأویل کے خراد پر چڑھانے کی کوشش کی ہے اور بعض لوگوں نے الفاظ کے طوطے مینا اڑائے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہاں ایک عظیم پیغمبر کا تذکرہ ہورہا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے جن عظیم نعمتوں سے نوازا ہے اس کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ نہ جانے جن لوگوں کو اس صورتحال کی قبولیت سے انکار ہے کیا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بدگمان ہیں یا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کے معجزات کے منکر ہیں۔ رہیں ان کی تأویلیں تو وہ اگر آیت کے الفاظ ہی پر غور کریں تو وہ تأویلیں الفاظ کا بھی ساتھ نہیں دیتیں۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ خود پروردگار کا ارشاد ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اسے سمجھتے نہیں۔ اب اگر حضرت دائود (علیہ السلام) کو وہ قوت سماعت دے دی گئی جو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیحات کو سن اور سمجھ سکتی تھیں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے۔ اور یا ان کی تسبیح وتحمید کو اللہ تعالیٰ نے وہ پذیرائی بخشی کہ پہاڑ اور جانور بھی اس میں شریک کردیئے گئے اور ایک غیرمعمولی بات پیدا کردی گئی تو اس میں بھی حیرانی کی بات کیا ہے۔ دکھانا تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی اوّابیّت کو وہ پذیرائی عطا فرمائی کہ پورا ماحول ان کی برکت سے اس صفت سے موصوف ہوگیا اور ہر طرف سے تسبیح وتحمید کی آوازیں گونجنے لگیں۔
Top