Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 38. Saad · Ayah 27

  1. وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ﴿27﴾

    1. وَاور
    2. مَا خَلَقْنَانہیں پیدا کیا ہم نے
    3. السَّمَآءَاور زمین
    4. وَالْاَرْضَاور زمین
    5. وَمَااور جو
    6. بَيْنَهُمَاان کے درمیان
    7. بَاطِلًا ۭباطل
    8. ذٰلِكَیہ
    9. ظَنُّگمان
    10. الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚجن لوگوں نے کفر کیا
    11. فَوَيْلٌپس خرابی ہے
    12. لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْاان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    13. مِنَسے
    14. النَّارِآگ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان چیزیں عبث نہیں پیدا کی ہیں۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا تو ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا دوزخ کی ہلاکت ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما باطلا ط ذلک ظن الذین کفروا، فویل للذین کفروا من النار (27) روز حساب کی ضرورت حضرت دائود ؑ کی سرگزشت ختم کرنے کے بعد یہ مخاطبوں کی طرفالتفات ہے۔ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی گی کہ یہ کیوں ضرویر ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ہر شخص اپنے رب کے سامنے مسئول ہو کہ اس نے خدا کے بخشے ہوئے اختیار کو صحیح استعمال کیا یا غلط ؟ فرمایا کہ ہم نے اس دنیا کو باطل نہیں پیدا کیا ہے بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس حق کے ظہور کے لئے قیامت کے دن مقرر کیا ہے جس میں ہر شخص اپنی نیکی کا صلہ پائے گا اور جس نے بدی کی کمائی کی ہوگی وہ اس کی سزا بھگتے گا۔ ذلک ظن الذین کفروا، یعنی اس دنیا کو بازیچہ اطفال وہ سمجھتے ہیں جو آخرت کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور اس دنیا میں چونکہ لازم نہیں کہ باطل پر سزا ملے یا نیکی پر انعام اس وجہ سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس کے خالق کے نزدیک نیکی اور بدی میں سرے سے کوئی امتیاز ہی نہیں ہے۔ فویل للذین کفروا من النار، فرمایا کہ جو لوگ آخرت کے منکر اور جزا و سزا سے بےپروا ہیں اور دوزخ کی ہلاکی سے دوچار ہوں گے۔