Al-Qurtubi - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے بےحکمت نہیں پیدا کیا ہے، یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں، سو کافروں کے لئے بڑی خرابی ہے یعنی دوزخ،28۔
28۔ یہاں مومن و کافر کے اساسی نقطہ نظر کا فرق بیان کردیا ہے۔ مومن کی نظر میں تکوینی مصلحتوں اور حکمتوں کا جلوہ حوادث کائنات کے ایک ایک جزئیہ سے نمایاں رہتا ہے، بخلاف اس کے جس کا ایمان توحید پر نہیں، وہ اس سارے کارخانہ کو بس مادی ہی قوانین کا محکوم وتابع سمجھتا ہے، اور اس کی نظر سے مقصدی حکمتیں بالکل گم ہوتی ہیں۔ اور جو فلاسفہ مادیئین کہلاتے ہیں، ان کا تو کھلا ہوا یہی مسلک ہے۔ (آیت) ” من النار “۔ میں یہاں بیانیہ یا تشریحی ہے۔ اس لیے ترجمہ یعنی سے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” وما خلقنا ..... بینھما “۔ متکلمین اہل سنت نے آیت کے اس جزو سے متعزلہ کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے کہ حق تعالیٰ ہی بندوں کے افعال کا بھی خالق ہے۔ واحتج اصحابنا بان ھذہ الایۃ تدل علی کونہ تعالیٰ خالقا لاعمال العباد فقالوا ھذہ الایۃ تدل علی کونہ خالقا لکل ما بین السموت والارض و اعمال العباد حاصلۃ بین السمآء والارض فوجب ان یکون اللہ تعالیٰ خالقالھا (کبیر) (آیت) ” باطلا “۔ یعنی بےمقصد، بلاحکمت، یوں ہی بلاکسی غرض صحیح کے۔
Top