Tadabbur-e-Quran - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا تریے رب عزیز و وہاب کے فضل کے خزانے انہی کی تحویل میں ہیں !
امرعندعم خزن رحمۃ ربک العزیز الوھاب (9) رعونت کا جواب یہ ان کی اس رعونت کا جواب ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ یہ اپنے سوا خدا کے کسی فضل و رحمت کا حقدار کسی کو نہیں سمجھتے، گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کو پکڑا دی ہیں کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس جو چاہیں محروم رکھیں۔ چناچہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ ان کے دائرہ سے باہر اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت و رسالت اور قرآن و کتاب کا حامل کس طرح بنا سکتا ہے ! انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور وہاب یعنی اپنے تمام خزانوں کا بلا شرکت غیرے مالک و مصرف اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کو بھی بڑی فیاضی سے بخشتا ہے جو ان کی نظروں میں اگرچہ کسی چیز کے اہل نہیں ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا متربہ ہے چناچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خوفریزے دیئے ہیں لیکن خدا کی نظروں میں ان کا بڑا مرتبہ ہے چناچہ اس نے اگر ان کو اس زمین کے کچھ خزف ریزیے دیئے ہیں جن پر یہ اترا رہے ہیں تو اس نے جس کو چاہا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخش دی ہے جس سے بڑے منصب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سورة طہ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے امر عندھم خزائٓن ربک ام ھم المصسیطرون (37) (کیا تیرے رب کے خزانے اس کے پاس ہیں یا یہ داروغے مقرر کردیئے گئے ہیں۔ (1)
Top