Tafheem-ul-Quran - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
(ہم نے اُس سے کہا)”یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں۔“ 39
سورة صٓ 39 اس آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، تمہیں اختیار ہے کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہے نہ دو۔ دوسرے یہ کہ یہ ہماری بخشش ہے، جسے چاہو دو نہ دو ، دینے یا نہ دینے پر تم سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا۔ ایک اور مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ شیاطین کلیۃً تمہارے تصرف میں دے دیے گئے ہیں، ان میں سے جسے چاہو رہا کردو اور جسے چاہو روک رکھو، اس پر کوئی محاسبہ تم سے نہ ہوگا۔
Top