Tafheem-ul-Quran - Al-Baqara : 25
وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ
وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ : اور خوشخبری دو جو لوگ آمَنُوْا : ایمان لائے وَ عَمِلُوْاالصَّالِحَاتِ : اور انہوں نے عمل کئے نیک اَنَّ لَهُمْ : کہ ان کے لئے جَنَّاتٍ : باغات تَجْرِیْ : بہتی ہیں مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے سے الْاَنْهَارُ : نہریں كُلَّمَا : جب بھی رُزِقُوْا : کھانے کو دیا جائے گا مِنْهَا : اس سے مِنْ ۔ ثَمَرَةٍ : سے۔ کوئی پھل رِزْقًا : رزق قَالُوْا : وہ کہیں گے هٰذَا الَّذِیْ : یہ وہ جو کہ رُزِقْنَا : ہمیں کھانے کو دیا گیا مِنْ : سے قَبْلُ : پہلے وَأُتُوْا : حالانکہ انہیں دیا گیا ہے بِهٖ : اس سے مُتَشَابِهًا : ملتا جلتا وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِیْهَا : اس میں اَزْوَاجٌ : بیویاں مُطَهَّرَةٌ : پاکیزہ وَهُمْ : اور وہ فِیْهَا : اس میں خَالِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے
اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے۔ اور آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔
خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ یہ نہایت کرخت ، جامد اور تاریک تصویر ہے ، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہوکر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ” اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔ “ کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے ، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے ۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں ۔
Top