Urwatul-Wusqaa - Saad : 80
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاِنَّكَ : پس بیشک تو مِنَ : سے الْمُنْظَرِيْنَ : مہلت دیے جانے والے
اللہ نے فرمایا (جا) تجھ کو مہلت دی گئی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابلیس کو ڈھیل دیئے جانے کا اعلان قرآنی 80۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا مہلت طلب کرنا اور رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے مہلت کا دیا جانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا ہونا ناگزیر تھا کہ اس دنیا میں ہرچیز کی ایک نقیض ہے اور اس نقیض سے اس کا وجود قائم ہے خیر و نیکی کو باقی رکھنے کے لیے اس کا وجود بھی ناگزیر تھا اس لیے اس کو دوبارہ اٹھائے جانے تک مہلت دی گئی مطلب یہ ہے کہ جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے اس وقت تک اس کا باقی رہنا لازم وضروری ہے اور بلاشبہ وہ کسی کے مٹانے سے بالکل مٹ نہیں سکتی۔ یہ ایک پیرایہ تفہیم کے لیے اختیار کیا گیا ہے اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو انسان اپنے آپ کو اپنی ذات کو سمجھ سکتا ہے ورنہ وہ اپنی ذات کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ برائیاں خود کرتا ہے اور نام ابلیس کا بدنام کرتارہتا ہے اور پوری زندگی اپنی اصلاح نہیں کر پاتا کیونکہ وہ حقیقت سے اکثر نا آشناہی رہتا ہے اور ملائیت نے یہ بات سمجھانے کی کوشش نہیں کی یا وہ خود ہی اس راز سے نا آشنا ہے۔
Top