Urwatul-Wusqaa - Saad : 82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ
قَالَ : اس نے کہا فَبِعِزَّتِكَ : سو تیری عزت کی قسم لَاُغْوِيَنَّهُمْ : میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اَجْمَعِيْنَ : سب
ابلیس نے کہا تیری عزت کی قسم میں ان سب کو ضرور گمراہ کروں گا
مہلت ملنے کے بعد ابلیس اپنی ابلیسیت پر قانع ہو گیا 82۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی ابلیسیت کی پوری پوری وضاحت کر کے انسان کو یہ بات سمجھا دی کہ شر اور برائی کا کام کرنے کے بعد اس پر اصرار کرنا اور اس کے ارتکاب کو تسلیم نہ کرنا ابلیسیت ہے اب تو خود اپنا تجزیہ کر کے دیکھ لے کہ تو کس بات پر قانع ہو رہا ہے اگر تیری حالت ایسی ہی ہے کہ شر اور برائی کرلینے کے بعد تو مصر ہے تو انسان ہونے کے باوجود تو شیطان کا چیلا ہے اور اگر شر اور برائی کے ارتکاب کے بعد تجھے تاسف ہوا اور تو شرما گیا اور اپنے ارتکاب جرم کو تسلیم کرلیا اور اپنے رب کریم کے سامنے ہار مان لی ، چت ہوگیا تو تو نے مقصود زندگی پا لیا اگر ملائیت کو یہ تسلیم نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ یہ اس کی انا کا مسئلہ ہے جو سراسر ابلیسیت ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے ( انا خیر منہ) کہا تھا اور اس کو مشخص کر کے یہی بات سمجھائی گئی تھی کہ ارتکاب گناہ اتنا گناہ نہیں ہے جتنا ارتکاب کرنے کے بعد اس کو چھپانا اور گناہ تسلیم ہی نہ کرنا گناہ ہے۔ گویا گناہ کا ہوجانا انسانیت ہے اور گناہ کرنے کے بعد اس کو رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے بھی تسلیم نہ کرنا ابلیسیت ہے اور گناہ کو کرنا دونوں میں بہت برا فرق ہے تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صوتوں میں سچے دل سے توبہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صورتوں میں سچے دل سے توبہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ تا ہم گناہ ہوجائے یا گناہ کیا جائے دونوں صورتوں میں سچے دل تو بہ ہی اس کا ازالہ ہے اگر اللہ تعالیٰ سچے دل کے ساتھ توبہ نصیب فرما دے اور گناہ پر قانع ہوجانا فعل ابلیس ہے جس کا اس جگہ بیان ہے۔ ابلیس اپنے گناہ کے اس فعل پر قانع ہوگیا اور اعلان کردیا کہ اب میرا کام انسانوں کو اغوا کرنا ہے اور سرکشی پر قائم رکھنا اور بلاشبہ فطرت شر کا یہی تقاضا تھا جو اس نے کہا اور جو اس نے کیا۔
Top