24. An-Noorالنور

The Light · Medinan · 64 ayahs · 9 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿1﴾

    (یہ ایک) سورت ہے کہ ہم (ہی) نے اس کو نازل کیا ہے اور ہم (ہی) نے اس کو مقرر کیا ہے اور ہم ہی نے اس میں کھلی ہوئی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو۔
  2. اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿2﴾

    زنا کار عورت اور زنامرد سو (دونوں کا حکم یہ ہے کہ) ان میں سے ہر ایک کے سو سو درے مارو۔ اور تم لوگوں کو ان دونوں پر اللہ کے معاملہ میں ذرا رحم نہ آنے پائے اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ اور چاہے کہ دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے۔
  3. اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ﴿3﴾

    زنا کار مرد نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زنا کار عورت یا مشرکہ عورت کے۔ اور زنا کار عورت کے ساتھ بھی کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی یا مشرک کے۔ اور اہل ایمان پر یہ حرام کردیا گیا ہے۔
  4. وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ﴿4﴾

    اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو۔ اور پھر چار گواہ نہ لاسکیں تو انہیں اسی درے لگاؤ۔ اور کبھی انکی کوئی گواہی نہ قبول کرو۔ یہی لوگ تو فاسق ہیں۔
  5. اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿5﴾

    ہاں البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں سو اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے۔
  6. وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿6﴾

    اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (اور) کوئی گواہ نہ ہو تو ان کی شہادت یہ ہے کہ وہ (مرد) چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں سچا ہوں
  7. وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿7﴾

    اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔
  8. وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ﴿8﴾

    اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ اللہ کی قسم چار بار کھا کرک ہے کہ بیشک مرد جھوٹا ہے
  9. وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿9﴾

    اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچا ہے۔
  10. وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿10﴾

    اور اگر اللہ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے بڑا حکمت والا ہے
  11. اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿11﴾

    تو تم بڑی مصیبتوں میں پڑجاتے)۔ بیشک جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے۔ وہ تم میں سے ایک (چھوٹا سا) گروہ ہے۔ تم اس کو برا نہ سمجھو اپنے حق میں۔ بلکہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا کچھ کیا تھا گناہ ہوا۔ اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے سزا بھی (سب سے بڑھ کر) سخت ہے۔
  12. لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ﴿12﴾

    جب تم لوگوں نے یہ (افوہ) سنی تھی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا۔
  13. لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ﴿13﴾

    اور (یہ کیوں نہ) کہہ دیا کہ یہ تو صریح طوفان بندی ہے۔ یہ لوگ اپنے قول پر چارگواہ کیوں نہ لائے سو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو بس یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہی ہیں۔
  14. وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ﴿14﴾

    اور اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) تو جس شغل میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوتا۔ (عذاب عظیم کے مستحق تو اس وقت ہوتے
  15. اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ﴿15﴾

    جب تم اپنی زبانوں سے نقل درنقل کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کی تمہیں کوئی تحقیق نہ تھی اور تم اسے ہلکا سمجھ رہے تھے حالا کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی۔
  16. وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ﴿16﴾

    اور تم نے جب اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا تھا کہ ہم کیسے بات منہ سے نکالیں توبہ یہ تو سخت بہتان ہے۔
  17. یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿17﴾

    اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر اس قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا اگر تم ایمان والے ہو۔
  18. وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿18﴾

    اور اللہ تم سے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ برا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  19. اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿19﴾

    یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنین کے درمیان بےحائی کا چرچا رہے۔ ان کے لئے سزائے دردناک ہے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اللہ علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے۔
  20. وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿20﴾

    اور اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق بڑا رحیم ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔
  21. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿21﴾

    اے ایمان والو تم شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور جو کوئی شیطان کے قدم بہ قدم چلتا ہے تو وہ بےحیائی اور بیہودگی ہی کا حکم دیتا ہے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک وصاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک وصاف کردیتا ہے اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔
  22. وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿22﴾

    اور جو لوگ تم میں بزرگی اور وسعت والے ہیں وہ قرابت والوں کو اور مسکینوں کو اور ہجرت فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھابیٹھیں۔ چاہیے کہ معاف کرتے رہیں اور درگزر کرتے رہیں کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرتا رہے۔ بیشک اللہ برا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔
  23. اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ﴿23﴾

    جو لوگ تہمت لگاتے ہیں ان (بیویوں) کو جو پاک دامن ہیں بیخبر ہیں ایمان والیاں ہیں۔ ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔ اور ان کے لئے سخت عذاب (رکھا ہوا) ہے
  24. یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿24﴾

    اس دن (جس دن) ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پیر ان کاموں کی جو یہ کیا کرتے تھے۔
  25. یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ﴿25﴾

    اس روز اللہ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور یہ جان جائیں گے کہ اللہ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے بات کو کھول دینے والا ہے۔
  26. اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ع﴿26﴾

    گندی عورتیں گندے مردوں ہی کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے اور بہتر عورتیں بہتر مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور بہتر ہی مرد بہتر عورتوں کے۔ یہ لوگ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔
  27. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿27﴾

    اے ایمان والو تم اپنے (خاص) گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل مت ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو۔ اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے تاکہ تم خیال رکھو۔
  28. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ﴿28﴾

    پھر اگر ان میں تمہیں کوئی (آدمی) نہ معلوم نہ تو بھی ان میں نہ داخل ہو جب تک تم کو اجازت نہ مل جائے۔ اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو۔ یہی تمہارے حق میں پاکیزہ تر ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
  29. لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ﴿29﴾

    تم پر کوئی گناہ اس میں نہیں ہے کہ تم ان مکانات میں داخل ہوجاؤ (جن میں) کوئی رہتا نہ ہو (اور) ان میں تمہارا کچھ مال ہو۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو
  30. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ﴿30﴾

    آپ ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ انکے حق میں زیادہ صفائی کی بات ہے بیشک اللہ کو سب کچھ خبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔
  31. وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿31﴾

    اور آپ کہہ دیجیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ اور اپنا سنگارظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں جو اس میں سے کھلا ہی رہتا ہے۔ اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں اپنے شوہر پر اور اپنے باپ پر اور اپنے شوہر کے باپ پر اور اپنے بیٹوں پر اور اپنے شوہر کے بیٹوں پر اور اپنے بھائیوں پر اور اپنے بھائیوں کے لڑکوں پر یا اپنی بہنوں کے لڑکوں پر۔ اور اپنی (ہم مذہب) عورتوں) پر۔ اور اپنی باندیوں پر۔ اور ان مردوں پر جو طفیلی ہوں (اور عورت کی طرف) انہیں ذرا توجہ نہ ہو۔ اور ان لڑکوں پر جو ابھی عورتوں کی پردہ کی بات سے واقف نہیں ہوئے ہیں۔ اور عورتیں اپنے پیر زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے۔ اور تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو اے ایمان والو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
  32. وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿32﴾

    اور تم اپنے بےنکاحوں کا نکاح کرو۔ اور تمہارے غلام اور باندیوں میں جو اس کے (یعنی نکاح کے) لائق ہوں ان کا بھی۔ اگر یہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔
  33. وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿33﴾

    اور جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہیں انہیں چاہیے کہ ضبط سے کام لیں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو انہیں مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ۔ اور اللہ کے اس مال میں سے بھی انہیں دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ اور اپنی باندیوں کو مت مجبور کرو زنا پر جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔ محض اس لئے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ تمہیں حاصل ہوجائے۔ اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا سو اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
  34. وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿34﴾

    اور ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی حکاتیں اور خدا سے ڈرنے والوں کے لئے نصیحت (کی باتیں بھی بھیجی ہیں)۔
  35. اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ﴿35﴾

    اللہ (ہی) آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور (ہدایت) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے چراغ قندیل میں ہے قندیل گویا ایک چمک دار ستارہ ہے چراغ روشن کیا جاتا ہے ایک نہایت مفید درخت (یعنی) زیتوں سے جو نہ پورب رخ ہے اور نہ پچھم رخ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا اگرچہ آگ اسے نہ بھی چھوئے۔ نور ہی نور ہے۔ اللہ اپنے اسی نور تک جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لئے (یہ) مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
  36. فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ﴿36﴾

    وہ)۔ ایسے گھروں میں ہیں جن کے لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے۔ ان میں وہ لوگ صبح وشام اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
  37. رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ﴿37﴾

    ایسے لوگ جنہیں نہ تجارت غفلت میں ڈال دیتی ہے نہ (خریدو) فروخت وہ ڈرتے رہتے ہیں ایسے دن سے جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔
  38. لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿38﴾

    انجام یہ ہوگا کہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا اور ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے دے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے بیشمار دے دیتا ہے۔
  39. وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ﴿39﴾

    اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال مثل سراب کے ہیں چٹیل میدان میں کہ پیاسا اس کو پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ بھی نہ پایا اور اس کے پاس (قضاء) الہی کو پایا۔ سو اللہ نے اس کا حساب پورا چکا دیا۔ اور اللہ بہت ہی جلد حساب کردیتا ہے
  40. اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ع﴿40﴾

    یا (وہ اعمال) ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے کہ اس کو ایک (بڑی) موج نے ڈھانپ لیا ہو پھر اس (موج) کے اوپر (ایک اور) موج ہو (پھر) اس کے اوپر بادل ہو (غرض) اوپر تلے اندھیرے ہیں اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اس کے دیکھنے کا احتمال تک نہیں۔ اور جس کو اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کے لئے (کہیں سے) نور نہیں۔
  41. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿41﴾

    کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرند بھی جو پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کو معلوم ہے اپنی اپنی دعا اور اپنی تسبیح۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ کرتے رہتے ہیں۔
  42. وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ﴿42﴾

    اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمان اور زمین اور اللہ ہی کی طرف واپسی ہے۔
  43. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ﴿43﴾

    کیا تجھے یہ علم نہیں کہ اللہ ایک ایک بادل کو چلاتا رہتا ہے پھر اس کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہ بتہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے بارش کو کہ وہ اس کے بیچ میں نکل کر آتی ہے اور اسی بادل سے یعنی اس کے بڑے بڑے حصول میں سے اولے برساتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور اسے ہٹا دیتا ہے جس سے وہ چاہتا ہے اس (بادل) کے بجلی کی چمک گویا اب بینائی جایا ہی چاہتی ہے۔
  44. یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ﴿44﴾

    اللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے اس میں اہل بینش کے لئے (بڑا) سبق ہے
  45. وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿45﴾

    اور اللہ ہی نے ہر چلنے والے جانور کو پانی سے پیدا کیا ہے سو ان میں وہ بھی ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
  46. لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿46﴾

    بیشک ہم نے کھلے ہوئے نشان نازل کئے ہیں اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کردیتا ہے۔
  47. وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾

    اور یہ لوگ کہتے (تو) ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے اور ان کا حکم مانا پھر ان میں کا ایک گروہ اس کے بعد سرتابی کرجاتا ہے اور یہ لوگ (ہرگز) ایمان والے نہیں۔
  48. وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿48﴾

    اور جب یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں کا ایک گروہ پہلو تہی کرتا ہے۔
  49. وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ﴿49﴾

    اور اگر ان کا حق (نکلتا ہوتا) ہے تو (رسول) کی طرف سرتسلیم خم آجاتے ہیں۔
  50. اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ع﴿50﴾

    آیا ان کے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم نہ کرنے لگیں (نہیں) بلکہ یہ لوگ تو خود ہی ظالم ہیں۔
  51. اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿51﴾

    ایمان والوں کا قول تو یہ ہے جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ تو ایسے ہی لوگ تو فلاں یاب ہیں
  52. وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿52﴾

    اور جو کوئی بھی کہا مانے کگا اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے گا اور اس (کی نافرمانی) سے بچے گا تو بس ایسے ہی لوگ بامراد ہوں گے
  53. وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿53﴾

    اور یہ لوگ بڑے زور سے اللہ کی قسم کھاتے رہتے ہیں کہ اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ہم نکل پڑیں۔ آپ کہیے کہ (بس) قسمیں نہ کھاؤ فرمانبرداری معلوم ہے اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔
  54. قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿54﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر روگردانی کرو گے تو (سمجھ لو کہ) رسول کے ذمہ اسی قدر ہے جس کا باران پر رکھا گیا ہے اور تمہارے اوپر اسی قدر جس کا بارتم پر رکھا گیا ہے۔ اور اگر تم نے ان کی اطاعت کرلی۔ تو راہ سے جالگو اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
  55. وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿55﴾

    تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ وعدہ کرتا ہے کہ انہیں زمین میں حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حکومت دے چکا ہے۔ اور جس دین کو ان کے لئے پسند کیا ہے اس کو ان کے واسطہ قوت دے گا۔ اور ان کے خوف کے بعد اس کا امن میں تبدیل کردے گا (بشرطیکہ) میری عبادت کرتے رہیں کسی کو میرا شریک نہ بنائیں۔ اور جو کوئی اس کے بعد بھی کفر کرے گا سو ایسے ہی لوگ تو نافرمان ہیں۔
  56. وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿56﴾

    اور نما زکی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پر رحمت (کامل) کی جائے۔
  57. لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ع﴿57﴾

    جو لوگ کافر ہیں ان کی نسبت یہ خیال نہ کرنا کہ وہ زمین میں (ہمیں) ہرا دیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
  58. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿58﴾

    اے ایمان والو تمہارے مملوکوں کو اور تم میں جو (لڑکے) حد بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں ان کو تم سے تین وقتوں میں اجازت لینا چاہیے۔ (ایک) نماز صبح سے پہلے (دوسرے) جب دوپہر کو اپنے کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے) بعد نماز عشا (یہ) تین وقت تمہارے پردہ کے ہیں۔ ان (اوقات) کے سو ا نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ ان پر۔ وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس۔ اسی طرح اللہ تم سے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  59. وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿59﴾

    اور جب تم میں کے لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں۔ تو انہیں بھی اجازت لینا چاہیے جیسا جیسا کہ ان کے اگلے لوگ اجازت لے چکے ہیں اسی طرح اللہ تم سے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے اور بڑا حکم والا ہے۔
  60. وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿60﴾

    اور بڑی بوڑھیاں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو۔ ان کو کوئی گناہ نہیں (اس بات میں) کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں۔ (بشرطیکہ) زینت کو دکھلانے والیاں نہ ہوں۔ اور اگر (اس سے بھی) احتیاط رکھیں تو ان کے حق میں اور بہتر ہے۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔
  61. لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿61﴾

    نہ اندھے (آدمی) پر الزام ہے نہ لنگڑے (آدمی) پر الزام ہے اور نہ بیمار (آدمی) پر الزام ہے اور نہ خود تم پر اس بات میں کہ تم اپنے گھروں میں سے کھانا کھالو۔ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا (ان گھروں سے) جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں (کے گھروں) سے۔ تم پر کچھ الزام نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو۔ (جو) دعا کے طور پر اللہ کی طرف سے (مقرر) ہے بابرکت (اور) عمدہ (چیز) اللہ اسی طرح تم سے کھول کر احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
  62. اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿62﴾

    بس مومنین تو وہی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر اور جب رسول کے پاس (کسی ایسے) کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے مجمع کیا گیا ہے تو جب تک آپ سے اجازت نہیں لے لیتے جاتے نہیں۔ بیشک جو لوگ آپ سے اجازت لیتے ہیں وہ وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ آپ سے اجازت طلب کریں اپنے کسی کام کے لئے تو آپ ان میں سے جس کیلئے چاہیں اجازت دے دیں۔ اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا بھی کیجیے بیشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
  63. لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿63﴾

    تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو اللہ کے حکم کی مخالفت کررہے ہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر (دنیا میں ہی) کوئی آفت نازل ہوجائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب آپکڑے۔
  64. اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿64﴾

    یاد رکھو اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانون اور زمین میں ہے۔ وہ اس کو بھی جانتا ہے جس (حالت) پر تم اب ہو۔ اور اس دن کو بھی جب (سب) اس کے پاس لوٹائے جائیں گے پھر وہ انہیں جتلادے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اور اللہ سب ہی کچھ جانتا ہے۔