31. Luqmanلقمان
Luqman · Meccan · 34 ayahs · 3 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓۚ﴿1﴾
الم۔تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾
یہ اس حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ﴿3﴾
جو نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بن کر آئی ہے۔الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾
وہ نیک لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿5﴾
وہی ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿6﴾
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿7﴾
اور جب ایسے شخص کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ پورے تکبر کے ساتھ منہ موڑ لیتا ہے، جیسے انہیں سنا ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بہرا پن ہے۔ لہذا اس کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ﴿8﴾
البتہ جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں کے باغات ہیں۔خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿9﴾
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿10﴾
اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیدا کیا جو تمہیں نظر آسکیں۔ اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں، اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے ہیں۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس (زمین) میں ہر قابل قدر قسم کی نباتات اگائیں۔هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ع﴿11﴾
یہ ہے اللہ کی تخلیق ! اب ذرا مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا کسی نے کیا پیدا کیا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (اور ان سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴿13﴾
اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ : میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے،وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿14﴾
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں یہ تاکید کی ہے۔ (کیونکہ) اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے پیٹ میں رکھا، اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے۔ کہ تم میرا شکر ادا کرو، اور اپنے ماں باپ کا میرے پاس ہی (تمہیں) لوٹ کر آنا ہے۔وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿15﴾
اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو (خدائی میں) شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو، اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو، اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴿16﴾
(لقمان نے یہ بھی کہا) بیٹا ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اور وہ کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں یا زمین میں، تب بھی اللہ اسے حاضر کردے گا۔ یقین جانو اللہ بڑا باریک بیں، بہت باخبر ہے۔یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ﴿17﴾
بیٹا ! نماز قائم کرو، اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو، اور برائی سے روکو، اور تمہیں جو تکلیف پیش آئے، اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ﴿18﴾
اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ع﴿19﴾
اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز آہستہ رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ﴿20﴾
کیا تم لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے اللہ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے، اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری پوری نچھاور کی ہیں ؟ پھر بھی انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں، جبکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے، نہ ہدایت ہے، اور نہ کوئی ایسی کتاب ہے جو روشنی دکھائے۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿21﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اس چیز کی اتباع کرو جو اللہ نے اتاری ہے۔ تو وہ کہتے ہیں : نہیں، بلکہ ہم تو اس طریقے کے پیچھے چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داداوں کو پایا ہے۔ بھلا اگر شیطان ان (باپ دادوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو، کیا تب بھی (وہ انہی کے پیچھے چلیں گے ؟)وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿22﴾
اور جو شخص فرمانبردار بن کر اپنا رخ اللہ کی طرف کردے، اور نیک عمل کرنے والا ہو، تو اس نے یقینا بڑا مضبوط کنڈا تھام لیا۔ اور تمام کاموں کا آخری انجام اللہ ہی کے حوالے ہے۔وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿23﴾
اور (اے پیغمبر) جس کسی نے کفر اپنا لیا ہے، تمہیں اس کا کفر صدمے میں نہ ڈالے۔ آخر انہیں ہمارے پاس ہی تو لوٹنا ہے، پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿24﴾
ہم انہیں کچھ مزے اڑانے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ہم انہیں ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ کرلے جائیں گے۔وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿25﴾
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! اس کے باوجود ان میں سے اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿26﴾
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿27﴾
اور زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، اور یہ جو سمندر ہے، اس کے علاوہ سات سمندر اس کے ساتھ اور مل جائیں (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں) تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالکمَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿28﴾
تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا (اللہ کے لیے) ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان کو (پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا) یقینا اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿29﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک کسی متعین میعاد تک رواں دواں ہے، اور (کیا تمہیں یہ معلوم نہیں) کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے کہ تم کیا کرتے ہو ؟ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ع﴿30﴾
یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی کا وجود سچا ہے، اور اس کے سوا جن (معبودوں) کو یہ (مشرک) پکارتے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں، اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بہت اونچی ہے، جس کی ذات بہت بڑی۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿31﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی مہربانی سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ یقینا اس میں ہر اس شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر کا پکا، اعلی درجے کا شکر گزار ہو۔وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾
اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چڑھ آتی ہیں تو وہ اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ اس وقت ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ ان کو بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہیں جو راہ راست پر رہتے ہیں (باقی پھر شرک کرنے لگتے ہیں) اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو پکا بدعہد، پرلے درجے کا ناشکر ہو۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿33﴾
اے لوگو ! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہیں آئے گا، اور نہ کسی بیٹے کی یہ مجال ہوگی کہ وہ اپنے باپ کے ذرا بھی کام آجائے۔ یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ یہ دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ وہ (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکے میں ڈال دے جو سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ع﴿34﴾
یقیناً (قیامت کی) گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔