30. Ar-Roomالروم

The Romans · Meccan · 60 ayahs · 6 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الم
  2. غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ﴿2﴾

    رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں
  3. فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ﴿3﴾

    قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
  4. فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿4﴾

    چند ہی سالوں میں ! سارا اختیار اللہ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے اللہ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے،
  5. بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ﴿5﴾

    وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
  6. وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿6﴾

    یہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  7. یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ﴿7﴾

    وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔
  8. اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ﴿8﴾

    بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔
  9. اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ﴿9﴾

    کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
  10. ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿10﴾

    پھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کا انجام بھی برا ہی ہوا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
  11. اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿11﴾

    اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، اور وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پھر تم سب اس کے پاس واپس بلا لیے جاؤ گے۔
  12. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿12﴾

    اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز مجرم لوگ ناامید ہوجائیں گے۔
  13. وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿13﴾

    اور انہوں نے جن کو اللہ کا شریک مان رکھا تھا، ان میں سے کوئی ان کا سفارشی نہیں ہوگا، اور خود یہ لوگ اپنے مانے ہوئے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔
  14. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ﴿14﴾

    اور جس دن قیامت برپا ہوگی، اس روز لوگ مختلف قسموں میں بٹ جائیں گے۔
  15. فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ﴿15﴾

    چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، ان کو تو جنت میں ایسی خوشیاں دی جائیں گی جو ان کے چہروں سے پھوٹی پڑ رہی ہوں گی۔
  16. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ﴿16﴾

    اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، تو ایسے لوگوں کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔
  17. فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ﴿17﴾

    لہذا اللہ کی تسبیح کرو اس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے۔
  18. وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ﴿18﴾

    اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
  19. یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿19﴾

    وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے، اور بےجان کو جاندار سے نکال لیتا ہے۔ اور وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اور اسی طرح تم کو (قبروں سے) نکال لیا جائے گا۔
  20. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ﴿20﴾

    اور اس کی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھتے ہی دیکھتے انسان بن کر (زمین میں) پھیلے پڑے ہو۔
  21. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿21﴾

    اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
  22. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ﴿22﴾

    اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔ یقینا اس میں دانش مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
  23. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿23﴾

    اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ تمہارا رات اور دن کے وقت سونا اور اللہ کا فضل تلاش کرنا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو بات سنتے ہوں۔
  24. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿24﴾

    اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
  25. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ﴿25﴾

    اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ ایک پکار دے کر تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم فورا نکل پڑو گے۔
  26. وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴿26﴾

    اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔
  27. وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿27﴾

    اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔
  28. ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿28﴾

    وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں۔
  29. بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿29﴾

    لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔ اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
  30. فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ﴿30﴾

    لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  31. مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿31﴾

    (فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
  32. مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿32﴾

    وہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اپنے اپنے طریقے پر مگن ہے۔
  33. وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿33﴾

    اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔
  34. لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿34﴾

    تاکہ ہم نے انہیں جو کچھ دیا تھا اس کی ناشکری کریں۔ اچھا ! کچھ مزے اڑا لو، پھر وہ وقت دور نہیں جب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔
  35. اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ﴿35﴾

    بھلا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو اس شرک کا ارتکاب کرنے کو کہتی ہو جو یہ اللہ کے ساتھ کرتے رہے ہیں ؟
  36. وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ﴿36﴾

    اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتے ہیں، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔
  37. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿37﴾

    کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لائیں۔
  38. فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿38﴾

    لہذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
  39. وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴿39﴾

    اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔
  40. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿40﴾

    اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر اس نے تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔
  41. ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿41﴾

    لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔
  42. قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ﴿42﴾

    (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گزرے ہیں، ان کا کیسا انجام ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔
  43. فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ﴿43﴾

    لہذا تم اپنا رخ صحیح دین کی طرف قائم رکھو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کا اللہ کی طرف سے کوئی امکان نہیں ہے۔ اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔
  44. مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ﴿44﴾

    جس نے کفر کیا ہے اس کا کفر اسی پر پڑے گا، اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے، وہ اپنے لیے ہی راستہ بنا رہے ہیں۔
  45. لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿45﴾

    نتیجہ یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزاء دے گا جو ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ یقینا اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
  46. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿46﴾

    اور اس (اللہ کی قدرت) کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے پانی میں چلیں، اور تم اس کا فضل تلاش کرو، اور شکر ادا کرو۔
  47. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾

    اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے، چنانچہ وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے۔ پھر جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، ہم نے ان سے انتقام لیا، اور ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ ایمان والوں کی مدد کریں۔
  48. اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ﴿48﴾

    اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ بادل کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ اس (بادل) کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے، اور اسے کئی تہوں (والی گھٹا) میں تبدیل کردیتا ہے۔ تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش برس رہی ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں۔
  49. وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ﴿49﴾

    حالانکہ اس سے پہلے جب تک ان پر بارش نہیں برسائی گئی تھی وہ ناامید ہورہے تھے۔
  50. فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿50﴾

    اب ذرا اللہ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندگی بخشتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
  51. وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ﴿51﴾

    اور اگر ہم (نقصان دہ) ہوا چلا دیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے کھیت کو پیلا پڑا ہوا دیکھیں تو اس کے بعد یہ ناشکری کرنے لگیں۔
  52. فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿52﴾

    غرض (اے پیغمبر) تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہے ہوں۔
  53. وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ع﴿53﴾

    اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راستے پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر فرمانبردار بن جائیں۔
  54. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ﴿54﴾

    اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، قدرت بھی کامل۔
  55. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ﴿55﴾

    اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم لوگ قسم کھا لیں گے کہ وہ (برزخ میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح (دنیا میں بھی) وہ اوندھے چلا کرتے تھے۔
  56. وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿56﴾

    جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ : تم اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق حشر کے دن تک (برزخ میں) پڑے رہے ہو۔ اب یہ وہی حشر کا دن ہے، لیکن تم لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔
  57. فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿57﴾

    چنانچہ جن لوگوں نے ظلم کی راہ اپنائی تھی، اس دن ان کی معذرت انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ اللہ کی ناراضی دور کرو۔
  58. وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ﴿58﴾

    اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کو سمجھانے) کی خاطر ہر قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) ان کا حال یہ ہے کہ تم ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آؤ، یہ کافر لوگ پھر بھی یہی کہیں گے کہ تم کچھ بھی نہیں، بالکل غلط کار ہو۔
  59. كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿59﴾

    اللہ اسی طرح ان لوگوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتا ہے جو سمجھ سے کام نہیں لیتے۔
  60. فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ع﴿60﴾

    لہذا (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، یقین جانو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے ان کی وجہ سے تم ڈھیلے پڑجاؤ۔