57. Al-Hadidالحديد
The Iron · Medinan · 29 ayahs · 4 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿1﴾
آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے، وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿2﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿3﴾
وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور چھپا ہوا بھی، اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿4﴾
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر استوا فرمایا، وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور تم جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ﴿5﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿6﴾
وہ رات کو دن میں داخل کردتیا ہے، اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿7﴾
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو، اور جس (مال) میں اللہ نے تمہیں قائم مقام بنایا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو۔ چنانچہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا ہے، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہ رکھو، حالانکہ رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھو، اور وہ تم سے عہد لے چکے ہیں، اگر تم واقعی مومن ہو۔هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿9﴾
اللہ وہی تو ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں نازل فرماتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اور یقین جانو اللہ تم پر بہت شفیق، بہت مہربان ہے۔وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ع﴿10﴾
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ﴿11﴾
کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض جس کے نتیجے میں اللہ اسے دینے والے کے لیے کئی گنا بڑھا دے ؟ اور ایسے شخص کو بڑا باعزت اجر ملے گا۔یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ﴿12﴾
اس دن جب تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں خوشخبری ہے ان باغات کی جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں تم ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ یہی ہے جو بڑی زبردست کامیابی ہے۔یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ﴿13﴾
اس دن جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ : ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ تمہارے نور سے ہم بھی کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ : تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پھر نور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی، اور باہر کی طرف عذاب ہوگا۔یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿14﴾
وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ مومن کہیں گے کہ : ہاں تھے تو سہی، لیکن تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا، اور انتظار میں رہے، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ بڑا دھوکے باز (یعنی شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا ہی دیتا رہا۔فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿15﴾
چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے (کھلے بندوں) کفر اختیار کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور یہ بہت برا انجام ہے۔اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿16﴾
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی، اور ان کے دل سخت ہوگئے، اور (آج) ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں ؟اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿17﴾
خوب سمجھ لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر واضح کردی ہیں، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ﴿18﴾
یقینا وہ جو صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ہیں، اور انہوں نے اللہ کو قرض دیا ہے اچھا قرض، ان کے لیے اس (صدقے) کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا، اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ع﴿19﴾
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴿20﴾
خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا، اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش جس سے اگنے والی چیزیں کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہیں، پھر وہ اپنا زور دکھاتی ہیں، پھر تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد پڑگئی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں (ایک تو) سخت عذاب ہے، اور (دوسرے) اللہ کی طرف سے بخشش ہے، اور خوشنودی، او دنیا والی زندگی دھکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿21﴾
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی جیسی ہے، یہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ﴿22﴾
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا، یقین جانو یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ﴿23﴾
یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں، اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿24﴾
وہ ایسے لوگ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں۔ اور جو شخص منہ موڑ لے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠﴿25﴾
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری، اور ترازو بھی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں جنگی طاقت بھی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدے بھی، اور یہ اس لیے تاکہ اللہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر اس (کے دین) کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَع﴿26﴾
اور ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا، اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ پھر ان میں سے کچھ تو ہدایت پر آگئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان رہے۔ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿27﴾
پھر ہم نے ان کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر اپنے اور پیغمبر بھیجے، اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحم دلی پیدا کردی۔ اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اس کی ویسی رعایت نہ کرسکے جیسے اس کا حق تھا۔ غرض ان میں سے جو ایمان لائے تھے، ان کو ہم نے ان کا اجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ﴿28﴾
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے، اور تمہارے لیے وہ نور پیدا کرے جس کے ذریعے تم چل سکو، اور تمہاری بخشش فرمادے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ع﴿29﴾
تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، اور یہ کہ فضل تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔