54. Al-Qamarالقمر
The Moon · Meccan · 55 ayahs · 3 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴿1﴾
- اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُقریب آگئی قیامت
- وَانْشَقَّ الْقَمَرُاور شق ہوگیا چاند
قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیاوَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿2﴾
- وَاِنْ يَّرَوْااور اگر وہ دیکھ لیں
- اٰيَةًکوئی بھی نشانی
- يُّعْرِضُوْامنہ موڑ جاتے ہیں
- وَيَقُوْلُوْااور کہتے ہیں
- سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّجادو ہے گزرنے والا۔ جاری رہنے والا۔ مسلسل
مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہےوَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾
- وَكَذَّبُوْااور انہوں نے جھٹلایا
- وَاتَّبَعُوْٓااور پیروی کی
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات کی
- وَكُلُّاور ہر
- اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّکام کا وقت مقرر ہے
اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہےوَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ﴿4﴾
- وَلَقَدْ جَآءَهُمْاور البتہ تحقیق آئیں ان کے پاس
- مِّنَ الْاَنْۢبَآءِخبروں میں سے
- مَا فِيْهِجو اس میں
- مُزْدَجَرٌڈانٹنا ہے۔ کافی تنبیہ ہے
اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہےحِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ﴿5﴾
- حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌحکمت پہنچنے والی۔ کامل
- فَمَاتو نہ
- تُغْنِ النُّذُرُکام آئے ڈراوے
اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیںفَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ﴿6﴾
- فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘتو منہ پھیر لو ان سے
- يَوْمَ يَدْعُجس دن پکارے گا
- الدَّاعِپکارنے والا
- اِلٰىطرف
- شَيْءٍایک چیز کے
- نُّكُرٍانجان
پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گاخُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾
- خُشَّعًاجھکی ہوئی ہوں گی
- اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
- يَخْرُجُوْنَنکلیں گے
- مِنَ الْاَجْدَاثِقبروں سے
- كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
- جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیںمُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ﴿8﴾
- مُّهْطِعِيْنَدوڑنے والے ہیں
- اِلَىطرف
- الدَّاعِ ۭپکارنے والے کے
- يَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَکہیں گے کافر
- ھٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌیہ دن ہے سخت
پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہےكَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ﴿9﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- قَبْلَهُمْان سے پہلے
- قَوْمُ نُوْحٍقوم نوح نے
- فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَاتو انہوں نے جھٹلایا ہمارے بندے کو
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- مَجْنُوْنٌمجنون ہے
- وَّازْدُجِرَاور ڈانٹا گیا۔ خوب دھمکی دیا گیا
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیافَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ﴿10﴾
- فَدَعَا رَبَّهٗٓتو اس نے پکارا اپنے رب کو
- اَنِّىْ مَغْلُوْبٌبیشک میں مغلوب ہوں
- فَانْتَصِرْپس بدلہ لے۔ انتقام لے
آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ﴿11﴾
- فَفَتَحْنَآتو کھول دیئے ہم نے
- اَبْوَابَ السَّمَآءِدروازے آسمان کے
- بِمَآءٍساتھ ایک پانی کے
- مُّنْهَمِرٍبرسنے والا
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیاوَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ﴿12﴾
- وَّفَجَّرْنَااور پھاڑ دیا ہم نے
- الْاَرْضَزمین کو
- عُيُوْنًاچشموں میں
- فَالْتَقَى الْمَآءُپس مل گیا پانی
- عَلٰٓي اَمْرٍایک حکم پر
- قَدْ قُدِرَتحقیق جس کا اندازہ کیا گیا تھا۔ جو مقدر ہوچکا تھا
اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھاوَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ﴿13﴾
- وَحَمَلْنٰهُاور اٹھایا ہم نے اس کو۔ سوار کیا ہم نے اس کو
- عَلٰي ذَاتِ اَلْوَاحٍاوپر تختوں والی کے
- وَّدُسُرٍاور میخوں والی کے
اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیاتَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ﴿14﴾
- تَجْرِيْچل رہی تھی
- بِاَعْيُنِنَا ۚہماری نگاہوں کے سامنے۔ ساتھ
- جَزَآءًبدلہ تھا
- لِّمَنْاس کے لیے جو
- كَانَ كُفِرَتھا انکار کیا گیا۔ کفر کیا گیا
جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی نا قدری کی گئی تھیوَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾
- وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآاور البتہ تحقیق چھوڑ دیا ہم نے اس کو
- اٰيَةًایک نشانی کے طور پر
- فَهَلْتو کیا
- مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا
اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿16﴾
- فَكَيْفَتو کس طرح تھا
- كَانَ عَذَابِيْعذاب میرا
- وَنُذُرِاور ڈرانا میرا
دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہاتوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَآسان کردیا ہم نے قرآن کو
- لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
- فَهَلْتو کیا
- مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿18﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- عَادٌعاد نے
- فَكَيْفَتو کس طرح
- كَانَ عَذَابِيْتھا عذاب میرا
- وَنُذُرِاور ڈراوے میرے
عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہاتاِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ﴿19﴾
- اِنَّآبیشک ہم نے
- اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
- عَلَيْهِمْان پر
- رِيْحًاایک ہوا کو
- صَرْصَرًاتند۔ تیز
- فِيْ يَوْمِ نَحْسٍنحوست کے ایک دن
- مُّسْتَمِرٍّمستقل۔ مسلسل
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھیتَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ﴿20﴾
- تَنْزِعُ النَّاسَ ۙاکھاڑ کر پھینک رہی تھی لوگوں کو
- كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
- اَعْجَازُ نَخْلٍتنے تھے کھجور کے
- مُّنْقَعِرٍجڑے سے کٹے ہوئے۔ جڑے سے اکھڑے ہوئے
جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوںفَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿21﴾
- فَكَيْفَتو کس طرح
- كَانَ عَذَابِيْتھا میرا عذاب
- وَنُذُرِڈرانا میرا۔ ڈراوے میرے
پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہاتوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿22﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَآسان کردیا ہم نے قرآن کو
- لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
- فَهَلْ مِنْتو کیا
- مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴿23﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- ثَمُوْدُ بالنُّذُرِثمود نے ڈراووں کو۔ تنبیہات کو
ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایافَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿24﴾
- فَقَالُوْٓاتو انہوں نے کہا
- اَبَشَرًا مِّنَّاکیا ایک انسان ہے ہم میں سے
- وَاحِدًاایک ہی
- نَّتَّبِعُهٗٓ ۙہم پیروی کریں اس کی
- اِنَّآ اِذًابیشک ہم تب
- لَّفِيْ ضَلٰلٍالبتہ گمراہی میں ہوں گے
- وَّسُعُرٍاور جنون میں
اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہےءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴿25﴾
- ءَاُلْقِيَکیا ڈالا گیا
- الذِّكْرُذکر۔ نصیحت
- عَلَيْهِاس پر
- مِنْۢ بَيْنِنَاہمارے درمیان سے
- بَلْ هُوَ كَذَّابٌبلکہ وہ سخت جھوٹا ہے
- اَشِرٌاترانے والا
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ﴿26﴾
- سَيَعْلَمُوْنَعنقریب وہ جان لیں گے
- غَدًاکل
- مَّنِ الْكَذَّابُکون جھوٹا ہے
- الْاَشِرُاترانے والا ہے
(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہےاِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘﴿27﴾
- اِنَّا مُرْسِلُوابیشک ہم بھیجنے والے ہیں
- النَّاقَةِاونٹنی کو
- فِتْنَةً لَّهُمْآزمائش کے طور پر ان کے لیے
- فَارْتَقِبْهُمْپس انتظار کرو ان کا
- وَاصْطَبِرْاور صبر کرو
ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہےوَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿28﴾
- وَنَبِّئْهُمْاور آگاہ کرو ان کو
- اَنَّ الْمَآءَبیشک پانی
- قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚتقسیم کیا ہوا ہے ان کے درمیان
- كُلُّ شِرْبٍہر ایک کے پانی کی باری
- مُّحْتَضَرٌحاضر کی گئی ہے
اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا"فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ﴿29﴾
- فَنَادَوْاتو انہوں نے پکارا
- صَاحِبَهُمْاپنے ساتھی کو
- فَتَعَاطٰىتو اس نے پکڑا
- فَعَقَرَتو کاٹ ڈالا۔ کونچیں کاٹ ڈالیں
آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالافَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿30﴾
- فَكَيْفَپھر کس طرح
- كَانَ عَذَابِيْتھا عذاب میرا
- وَنُذُرِاور ڈراوے میرے
پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہاتاِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ﴿31﴾
- اِنَّآبیشک ہم نے
- اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
- عَلَيْهِمْان پر
- صَيْحَةًایک دھماکہ
- وَّاحِدَةًبس ایک ہی
- فَكَانُوْاتو تھے وہ
- كَهَشِيْمِمانند گھاس کے
- الْمُحْتَظِرِباڑے والے کی
ہم نے اُن پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گئےوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿32﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَآسان کردیا ہم نے قرآن کو
- لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
- فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍتو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ﴿33﴾
- كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۢجھٹلایا قوم لوط نے
- بِالنُّذُرِڈراووں کو۔ ڈرانے والوں کو
لوطؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایااِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ﴿34﴾
- اِنَّآبھیجا ہم نے
- اَرْسَلْنَابھیجی ہم نے
- عَلَيْهِمْان پر
- حَاصِبًاپتھروں کی بارش
- اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ۭسوائے آل لوط کے
- نَجَّيْنٰهُمْنجات دی ہم نے ان کو
- بِسَحَرٍرات کے آخری حصے میں۔ سحر کے وقت
اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہےنِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ﴿35﴾
- نِّعْمَةًبطور نعمت
- مِّنْ عِنْدِنَا ۭہمارے پاس سے
- كَذٰلِكَ نَجْزِيْاسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں
- مَنْاسے
- شَكَرَجو شکر ادا کرے
اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہےوَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ﴿36﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- اَنْذَرَهُمْاس نے ڈرایا ان کو (لوط نے)
- بَطْشَتَنَاہماری پکڑ سے
- فَتَمَارَوْا بالنُّذُرِتو وہ جھگڑے تنبیہات پر
لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہےوَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾
- وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُاور البتہ تحقیق انہوں نے بہلایا اس کو
- عَنْ ضَيْفِهٖاس کے مہمانوں سے
- فَطَمَسْنَآ اَعْيُنَهُمْتو موند ڈالیں ہم نے ان کی آنکھیں
- فَذُوْقُوْاتو چکھو
- عَذَابِيْ وَنُذُرِعذاب میر اور ڈراوے میرے
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزاوَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ﴿38﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- صَبَّحَهُمْصبح کی ان پر
- بُكْرَةًصبح سویرے
- عَذَابٌایک عذاب نے
- مُّسْتَقِرٌّمستقل۔ اٹل
صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیافَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿39﴾
- فَذُوْقُوْاتو چکھو
- عَذَابِيْ وَنُذُرِعذاب میرا اور ڈراوے میرے
چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کاوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿40﴾
- وَلَقَدْ يَسَّرْنَااور البتہ تحقیق آسان کردیا ہم نے
- الْقُرْاٰنَقرآن کو
- لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
- فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍتو کیا کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ﴿41﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- جَآءَآئے
- اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُآل فرعون کے پاس ڈراوے
اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیںكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ﴿42﴾
- كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاانہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو
- كُلِّهَاساری کی ساری
- فَاَخَذْنٰهُمْتو پکڑ لیا ہم نے ان کو
- اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍپکڑنا زبردست اقتدار والے کا
مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہےاَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ﴿43﴾
- اَكُفَّارُكُمْکیا کفار تمہارے
- خَيْرٌبہتر ہیں
- مِّنْ اُولٰٓئِكُمْان لوگوں سے
- اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌیا تمہارے لیے کوئی معافی ہے
- فِي الزُّبُرِصحیفوں میں
کیا تمہارے کفار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ﴿44﴾
- اَمْ يَقُوْلُوْنَیا وہ کہتے ہیں
- نَحْنُ جَمِيْعٌہم سب کے سب۔ جماعت
- مُّنْتَصِرٌبدلہ لینے والے ہیں
یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴿45﴾
- سَيُهْزَمُعنقریب شکست کھاجائے گا
- الْجَمْعُجتھا
- وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَاور وہ پھیر لیں گے پشت۔ پیٹھ
عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گےبَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ﴿46﴾
- بَلِ السَّاعَةُبلکہ قیامت
- مَوْعِدُهُمْان کے وعدے کی جگہ ہے۔ وقت ہے
- وَالسَّاعَةُاور قیامت
- اَدْهٰىبہت سخت ہے
- وَاَمَرُّاور بہت کڑوی
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہےاِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴿47﴾
- اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَبیشک مجرم لوگ
- فِيْ ضَلٰلٍگمراہی میں ہیں
- وَّسُعُرٍاور جنون میں
یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہےیَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴿48﴾
- يَوْمَ يُسْحَبُوْنَجس دن وہ گھسیٹے جائیں گے
- فِي النَّارِآگ میں
- عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭاپنے چہروں کے بل (کہا جائے گا)
- ذُوْقُوْا مَسَّچکھو لپٹنا۔ چھونا۔ مس
- سَقَرَدوزخ کا
جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزااِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴿49﴾
- اِنَّابیشک ہم نے
- كُلَّ شَيْءٍہر چیز کو
- خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍپیدا کیا ہم نے اس کو ایک اندازے کے ساتھ
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہےوَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ﴿50﴾
- وَمَآ اَمْرُنَآاور نہیں حکم ہمارا
- اِلَّا وَاحِدَةٌمگر یکبارگی۔ ایک ہی بار
- كَلَمْحٍۢمانند جھپکنے کے
- بِالْبَصَرِنگاہ کے
اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آ جاتا ہےوَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿51﴾
- وَلَقَدْ اَهْلَكْنَآاور البتہ تحقیق ہلاک کیا ہم نے
- اَشْيَاعَكُمْتمہارے جیسوں کو۔ تمہارے گروہوں کو
- فَهَلْتو کیا
- مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ﴿52﴾
- وَكُلُّ شَيْءٍاور ہر چیز
- فَعَلُوْهُانہوں نے کیا اس کو
- فِي الزُّبُرِصحیفوں میں ہے
جو کچھ اِنہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہےوَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴿53﴾
- وَكُلُّاور ہر
- صَغِيْرٍ وَّكَبِيْرٍچھوٹا اور بڑا
- مُّسْتَطَرٌلکھا ہوا ہے
اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہےاِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ﴿54﴾
- اِنَّ الْمُتَّقِيْنَبیشک تقوی والے
- فِيْ جَنّٰتٍباغوں میں ہوں گے
- وَّنَهَرٍاور نہروں میں
نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناً باغوں اور نہروں میں ہوں گےفِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ع﴿55﴾
- فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍسچی عزت کی جگہ۔ سچائی کی جگہ
- عِنْدَ مَلِيْكٍبادشاہ کے نزدیک
- مُّقْتَدِرٍجو اقتدار والا ہے
سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب