آسان قرآن
Aasan Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 6
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا﴿6﴾
- اَلنَّبِيُّنیی
- اَوْلٰىزیادہ (حقدار)
- بِالْمُؤْمِنِيْنَمومنوں کے
- مِنْسے
- اَنْفُسِهِمْان کی جانیں
- وَاَزْوَاجُهٗٓاور اس کی بیبیاں
- اُمَّهٰتُهُمْ ۭان کی مائیں
- وَاُولُوا الْاَرْحَامِاور قرابت دار
- بَعْضُهُمْان میں سے بعض
- اَوْلٰىنزدیک تر
- بِبَعْضٍبعض (دوسروں سے)
- فِيْمیں
- كِتٰبِ اللّٰهِاللہ کی کتاب
- مِنَسے
- الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں
- وَالْمُهٰجِرِيْنَاور مہاجرین
- اِلَّآ اَنْمگر یہ کہ
- تَفْعَلُوْٓاتم کرو
- اِلٰٓىطرف (ساتھ)
- اَوْلِيٰٓئِكُمْاپنے دوست (جمع)
- مَّعْرُوْفًا ۭحسن سلوک
- كَانَہے
- ذٰلِكَیہ
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- مَسْطُوْرًالکھا ہوا
Translation · Aasan Quran
ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دارو دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں) زیادہ حق رکھتے ہیں (7) الا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے ان) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
7: یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ تمام مسلمانوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، اور آپ کی ازواج مطہرات کو سب مسلمان اپنی ماں سمجھتے ہیں، لیکن اس وجہ سے آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو میراث کے معاملے میں کسی مسلمان کے اپنے رشتہ داروں پر فوقیت حاصل نہیں ہوئی، چنانچہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی میراث اس کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ یا آپ کی ازواج مطہرات کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا، حالانکہ دینی اعتبار سے آپ اور آپ کی ازواج مطہرات دوسرے رشتہ داروں سے زیادہ حق رکھتی ہیں۔ جب آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو ان کے دینی رشتے کے باوجود میراث میں شریک کیا گیا تو منہ بولے بیٹے کو محض زبان سے بیٹا کہہ دینے کی بنا پر میراث میں کیسے شریک کیا جاسکتا ہے ؟ البتہ اگر ان کے ساتھ نیکی کا ارادہ ہو تو ان کے لیے اپنے ترکے کے تہائی حصے کی حد تک کوئی وصیت کی جاسکتی ہے۔