Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 30

  1. وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿30﴾

    1. وَقَالَتِاور کہا
    2. الْيَهُوْدُیہود
    3. عُزَيْرُعزیر
    4. ابْنُ اللّٰهِاللہ کا بیٹا
    5. وَقَالَتِاور کہا
    6. النَّصٰرَىنصاری
    7. الْمَسِيْحُمسیح
    8. ابْنُ اللّٰهِاللہ کا بیٹا
    9. ذٰلِكَیہ
    10. قَوْلُهُمْان کی باتیں
    11. بِاَفْوَاهِهِمْان کے منہ کی
    12. يُضَاهِئُوْنَوہ ریس کرتے ہیں
    13. قَوْلَبات
    14. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    15. مِنْ قَبْلُپہلے
    16. قٰتَلَهُمُہلاک کرے انہیں
    17. اللّٰهُاللہ
    18. اَنّٰىکہاں
    19. يُؤْفَكُوْنَبہکے جاتے ہیں وہ
Translation · Aasan Quran
یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، (28) اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں۔ (29) اللہ کی مار ہو ان پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں ؟
Tafseer · Aasan Quran
28: حضرت عزیر ؑ ایک جلیل القدر پیغمبر تھے، (ان کو بائبل میں عزرا کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اور ایک پوری کتاب ان کے نام سے منسوب ہے) اور جب بخت نصر کے حملے میں تورات کے نسخے ناپید ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی یادداشت سے دوبارہ لکھوایا تھا، اور شائد اسی وجہ سے بعض یہودی انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے لگے تھے، یہاں یہ واضح رہے کہ ان کا بیٹا ماننے کا عقیدہ سب یہودیوں کا نہیں ہے ؛ بلکہ بعض یہودیوں کا ہے جو عرب میں بھی آباد تھے۔ 29: اس سے مراد غالباً عرب کے مشرکین ہیں جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔