Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں
20۔ 27۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش اپنی سرکشی کو نہ چھوڑیں گے تو جس طرح ان سے پہلے کی قومیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر ہلاک اور غارت ہوچکی ہیں وہی انجام قریش کا ہوگا ان آیتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جند فوج کو کہتے ہیں مشرکین مکہ نے تین سو ساٹھ کے قریب بتوں کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان بتوں کا نام جند رکھ کر یہ ارشاد ہے کہ ان مشرکین کے دلوں میں یہ بات جو بسی ہوئی ہے کہ وقت پڑنے پر ان کے بت کچھ ان کی مدد کریں گے یہ فقط شیطان کا دھوکا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے برا وقت پڑے تو سواء اللہ تعالیٰ کے اور کسی میں یہ قدرت کہاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برے وقت ڈالے ہوئے کو ٹال سکے پچھلی امتیں بھی اسی شیطانی دھوکے میں تھیں مگر وقت پڑے پر اس دھوکے سے انہیں پچھتانا پڑا۔ اس وقت کا پچھتانا کچھ ان کے کام نہ آیا آخر ایک دم میں سب ہلاک ہو کر دونوں جہان سے گئے پھر قحط کے عذاب کی مثال دے کر سمجھایا کہ اگر ایک برس آسمان سے مینہ نہ برسے تو بھلا سوا اللہ کے کسی میں قدرت ہے کہ اس مصیبت کو ٹال سکے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اور عذاب آجائے گا تو اس کو پھر وہی ٹالے گا تو ٹلے گا اس کے سوا برے وقت پر کوئی کام نہ آئے گا صحیحین 1 ؎ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جب قریش اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور آنحضرت ﷺ نے بددعا کی اور مکہ میں اس طرح کا قحط پڑا کہ لوگ مردار جانور تک کھا گئے اور قریش سب بت پرستی بھول گئے اور کوئی بت کام نہ آیا۔ آخر جب اللہ کے رسول نے ہی دعا کی تو خدا کے ٹالنے سے وہ بلا ٹلی۔ ان آیتوں میں جس مثال سے اللہ تعالیٰ نے مکہ کے مشرک لوگوں کو سمجھایا ہے یہ حدیث اس مثال کی گویا تفسیر ہے اس قحط کے ذکر میں یہ بھی فرمایا کہ اتنی بڑی تنبیہ کا اثر جو ان لوگوں پر کچھ نہیں ہوا اس کا سبب یہی ہے کہ اپنی شرارت سے یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے بدکتے ہیں اور بدکنے کے سبب سے وہ شرارت ان کے دلوں میں گھس گئی ہے اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد قریش نے جب قرآن کی نصیحت سے وہ اپنا بدکنا کم کردیا تو پھر ان کی وہ شرارت بھی نہ رہی اور فتح مکہ تک سب قصہ طے ہوگیا۔ قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو سمجھیں کہ جب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں کسی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے اور کوئی مصیبت آ کر ان نعمتوں کو کچھ زوال پہنچا جائے تو اس زوال کی مصیبت کو بھی سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی دفع نہیں کرسکتا تو پھر یہ مشرک لوگ اوندھا راستہ چل رہے ہیں کہ خدا کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اسی پر یہ مثال فرمائی ہے کہ خدا کے معبود ٹھہرانے والے لوگ اپنے پیروں سے سیدھی چال چلتے ہیں اور مشرک لوگ ایسے جیسے کوئی پیروں سے چلنا چھوڑ کر منہ کے بل چلنے لگے پھر فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اس نے تو نصیحت کے سننے کے لئے کافی قدرت کے نمونے مثلاً دیکھنے کے لئے آنکھیں ہر بات پر غور کرنے کے لئے ان کے دل میں عقل سب کچھ کردیا ہے اس پر یہ اوندھا راستہ چلیں گے تو قیامت کے دن اس اوندھی چال کی سزا بھی ان لوگوں کو اسی طرح کی دی جائے گی کہ جب حشر کے دن یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو منہ کے بل اٹھیں گے جس کا ذکر قرآن شریف اور صحیحین وغیرہ کی حدیث میں اوپر گزر چکا ہے۔ قل ھو الذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون کی تفسیر وہی ہے جو اوپر گزری کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھیل کے طور پر بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ انسان کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو کئی جگہ قرآن میں بیان کردیا گیا ہے کہ چند روزہ زیست میں انسان سے جو نیک و بد ہو سکے وہ کرلے اور دنیا سے اٹھ جائے۔ بعد اس کے سب دنیا کے ختم ہونے کے بعد اس کو پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے عمر بھر کے نیک و بد کی جزا و سزا ہوگی تاکہ انسان کا پیدا کرنا رائیگاں نہ ہو اس نصیحت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اب تو یہ مشرک لوگ سرکشی سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت نہ ماننے پر جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے آخر وہ عذاب کب آئے گا اے اللہ کے رسول اس کے جواب میں ان مشرکوں سے کہہ دیا جائے کہ عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو معلوم ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ جب عذاب کا وقت آئے گا تو یہ سرکشی سب نکل جائے گی اور بڑے بڑے سرکشوں کی صورت نہ پہچانی جائے گی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی والے دن اور مکہ کے قحط کے وقت دنیا میں تو یہ حال گزر چکا ‘ عقبیٰ کے عذاب کا وقت مرنے کے بعد آئے گا اور اس وقت قائل کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ جس عذاب کی دنیا میں تم جلدی کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الدخان ص 714 ج 2۔ )
Top