Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بھلا کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکے ؟ بلاشبہ (اس کے) منکر دھوکے میں پڑے ہیں
کیا تمہارے پاس کوئی لشکر ہے جو رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکے ؟ 20 ؎ وہ لوگ جو حق کی مخالفت اور باطل کی موافقت میں دن رات کوشیاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ حق اور باطل دونوں کو ملا کر یا باطل کو حق کے نیچے چھپا کر اپنا الو سیدھا کریں کیا ان کے پاس کوئی ایسا لشکر ہے جو رحمن کے خلاف ان کی مدد کے لئے تیار کھڑا ہے اور ان کے حکم کے انتظار میں ہے کہ جونہی رحمن کی طرف سے ان کے وارنٹ گرفتاری نکلیں گے تو وہ وارنٹ لانے والوں کو وارنٹوں کے ساتھ ہی بھسم کر کے رکھ دیں گے اور اس جس کی حمایت میں ایسا کریں گے وہ رحمن کے عذاب سے بچ جائے گا۔ فرمایا کان کھول کر سن لو کہ نہ کوئی تھا ، نہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا۔ یہ بات عقیدہ کی نہیں بلاشبہ ایسا عقیدہ تو کوئی نہیں رکھتا لیکن اس طرح کے عمل کرنے والوں کی کمی آج تو یقینا نہیں ہے اس وقت اگر کوئی ہزاروں میں ایک تھا تو اس وقت ایک ہزار سے نو سو ننانویں ایسے مل سکتے ہیں جو عملی طور پر رحمن کے مقابلہ میں ہیں اگرچہ وہ زبانی طور پر تسلیم نہ کریں اور ایسے کافروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو شروع سے لے کر آج تک اس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ عملی مخالفت بھی کرتے ہیں اور تسلیم بھی بالکل نہیں کرتے۔ ذرا غور کریں کہ ہم مسلمان ہیں یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اسی دعویٰ پر جان دینے کیلئے ہمارا ہر ایک فرد تیار ہے لیکن عملی حالت یہ ہے کہ کوئی شخص کوئی کام بھی ہدایات الٰہی کے مطابق کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ رواج کے مطابق کرنے والے موجود ہیں۔ خاندان اور برادری کی خاطر کام کرنے والے موجود ہیں۔ اپنے اپنے مکتب فکر کے لئے کام کرنے والے موجود ہیں۔ اپنے پیروں ، بزرگوں ، لیڈروں کی خوشنودی کے لئے کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن تیار نہیں تو صرف اس کام کے لئے نہیں جس کا حکم رحمن نے دیا ہے۔ اس طرح گویا وہ خود دھوکا باز ہیں اور دوسروں کو دھوکا میں مبتلا کر رکھا ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دوسروں کو دھوکا میں مبتلا کرنے والا خود دھوکا میں مبتلا ہوتا ہے اور اس بات کو نہیں سمجھتا یا سمجھنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتا اب یہ فیصلہ تم خود کرلو کہ کافر ہی اس دھوکا میں مبتلا ہیں یا جو اس دھوکا میں مبتلا ہوں ان ہی کو کافر کہا جاتا ہے اور اگر تم پہلی بات کہو گے تو میرا ذہن دوسری کو قبول کرتا ہے جو قرآن کریم کی منشا ہے وہ کسی قرآن جاننے والے سے پوچھ لو اور بہتر ہے کہ ہم نے آپ کو ایک کسوٹی پرکھنے کی بتائی تھی اس پر رکھ کر دیکھ لو اور یہ کسوٹی ہم نے غزوۃ الوثقی جلد ہفتم میں سورة النمل کی آیت 4 کے تحت درج کردی ہے ، وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Top