Fi-Zilal-al-Quran - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بتاﺅ، آخروہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔
امن ھذا ................................ فی غرور ” اللہ نے اس سے پہلے انسانوں کو خسف سے ڈرایا ، جبکہ اس سے قبل کئی مکذبین کو یہ سزا دی گئی ، پھر سنگباری سے ڈرایا جبکہ کئی پر سنگباری کی گئی۔ اور اسی طرح دوسرے مکذبین کی مختلف ہلاکتوں سے ڈرایا تھا۔ یہاں دوبارہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو ان کی امداد کرتا ہے اور اس قسم کی مختلف ہلاکتوں سے تمہیں بچاتا ہے ؟ اللہ کو پکڑ کر رحمن کے سوا کون روکے ہوئے ہیں ؟۔ ان الکفرون الا فی غرور (76 : 02) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ دھوکہ ان کو اس بات پر مطمئن کردیتا ہے کہ وہ امن میں ہیں۔ کسی کی ضمانت اور اطمینان میں ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کے غضب اور عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ ایمان لائے ہیں اور نہ عمل صالح کررہے ہیں ، جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اللہ کا عذاب واقع نہیں ہوتا ہے۔ اور ایک چٹکی پھر دوبارہ ، ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ رزق الٰہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اگر اللہ کی طرف سے بند کردیا جائے تو پھر کون ہے جو اس قدر عظیم انتظام کرسکتا ہے۔
Top