Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
ہاں یہ تو بتاؤ رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے گا، کافر لوگ صرف دھوکے میں پڑے ہیں
رحمٰن کے سوا تمہارا کون مددگار ہے ؟ اگر وہ اپنا رزق روک لے تو تم کیا کرسکتے ہو ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے مدد فرمانے اور رزق عطا فرمانے کا اور کافروں کے غرور اور نفور میں اور سرکشی میں بڑھتے چلے جانے کا ذکر ہے۔ ان آیتوں کا سبب نزول بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو کافر دعوت حق قبول کرنے سے گریز کرتے تھے اور عناد پر تلے ہوئے تھے انہیں دو چیزوں پر گھمنڈ تھا اول تو یوں کہتے اور سمجھتے تھے کہ ہمارے اموال اور ہمارے افراد قوم اور قبیلہ کے لوگ ہماری حفاظت کرلیں گے، دوم وہ بتوں سے نفع وضرر کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں باتوں کی تردید فرمائی اول تو یہ فرمایا کہ بتاؤ تمہارے وہ کون سے لشکر ہیں جو رحمن جل مجدہ کے علاوہ تمہاری مدد کردیں گے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آجائے تو اسے دفع کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا کون ہے ؟ یعنی کوئی بھی نہیں ہے، تم جھوٹی خام خیالیوں میں مبتلا ہو شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور یہ سمجھا رکھا ہے کہ کوئی عذاب آگیا تو ہمارے جو کثیر افراد ہیں وہ حفاظت کرلیں گے، پھر فرمایا کہ یہ بھی بتاؤ کہ رازق مطلق جو تمہیں رزق دیتا ہے اگر وہ اپنے رزق کو روک لے تو بتاؤ وہ کون ہے جو تمہیں رزق دیدے ؟ یعنی اس کے علاوہ تمہیں کوئی بھی رزق دینے والا نہیں۔
Top