Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں
حضرت ابن عباس نے جند کا معنی حزب اور منعۃ کیا ہے (1) یعنی ایسی جماعت جو تمہارا دفاع کرے گی۔ اللہ تعالیٰ جس کا تمہارے بارے میں ارادہ کرے گا۔ اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ لفظ جند واحد ہے اسی وجہ سے فرمایا : ھذا الذی ھوجندلکم یہ استفہام انکاری ہے یعنی تمہارے پاس کوئی لشکر نہیں جو تمہارا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دفاع کرے۔ دون، سوا کے معنی میں ہے۔ کافر شیطان کی جانب سے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ وہ انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ کوئی عذاب نہیں کوئی حساب نہیں۔
Top