Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
(ان سے کہو کہ) بھلا کون ہے وہ جو تمہارے لئے لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے (خدائے) رحمان کے مقابلے میں ؟ کافر لوگ تو محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں
25 ۔ کافر اور منکر لوگ نرے دھوکے میں والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافروں اور منکروں کے دیوں پر ایک دستک کے طور پر بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمٰن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ کافر لوگ تو محض دھوکے میں پڑے ہیں جو خدائے رحمٰن سے منہ موڑ کر طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں پر تکیہ کر کے حق اور حقیقت سے دور اور محروم ہور ہے ہیں اور حضرت حق جل مجدہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اس کی عاجز اور بےبس مخلوق کے آگے جھک کر جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنی تذلیل کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد میں ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کی غفلت و لاپرواہی اور ان کے طنطنہ سے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنے دفاع کے لئے کوئی بڑا ناقابل تسخیر دفاعی حصار قائم کر رکھا ہے، جس سے یہ لوگ ایسے نچنت اور بےفکر ہو رہے ہیں، لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، عذاب الٰہی کا کوئی جھونکا بھی اگر آگیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو ان کے یہ سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے، والعیاذ باللہ۔ خدائے رحمان کے مقابلے میں کوئی شکر کام نہیں آسکتا سوائے اسی کی رحمت و عنایت کے۔ لاملجا ولامنجامنہ الا الیہ۔ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ، ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین
Top