Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بتائو، تمہارے پاس وہ کون سی فوج ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتی ہے، یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں
اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ جُنْدٌ لَّـکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ط اِنِ الْـکٰفِرُوْنَ اِلاَّ فِیْ غُرُوْرٍ ۔ (الملک : 20) (بتائو، تمہارے پاس وہ کون سی فوج ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتی ہے، یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) کفار کی خودفریبی پر تنبیہ نبی کریم ﷺ جب قریش مکہ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور قیامت میں جوابدہی سے ڈراتے تھے تو یہ فکرمند ہونے کی بجائے مذاق اڑاتے تھے، حتیٰ کہ ان کی جرأت یہاں تک بڑھی کہ جب بھی ان کا آنحضرت ﷺ سے سامنا ہوتا تو وہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے یا قیامت کے جلد وقوع پذیر ہونے پر اصرار کرتے۔ اس آیت کر یمہ میں ان سے کہا جارہا ہے کہ تم جس بےباکی سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو ذرا یہ تو بتائو کہ تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جس سے تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مقابلہ کرو گے۔ اگر پروردگار نے تمہاری تباہی کا فیصلہ کرلیا تو کیا تم زمین کو پھٹنے یا ہچکولے کھانے سے روک سکتے ہو یا اوپر سے اگر پتھروں کی بارش شروع ہوگئی تو تمہارے پاس کون سی ایسی پناہ گاہ ہے جس میں تم اپنے آپ کو بچا سکو گے۔ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی جب گرفت آتی ہے تو قلعوں میں چھپ کر بیٹھے ہوئے لوگ بھی اس سے بچ نہیں سکتے۔ جن لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ہمارے دفاعی حصار ناقابلِ تسخیر ہیں، ان کے حصار بھی مکڑی کے جالے ثابت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کافر بہت بڑے فریب میں مبتلا ہیں۔ وہ عذاب کی دھمکی کو محض ایک مذاق سمجھتے ہیں اور اسے تسلیم کرنے کے لیے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کا وقوع ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ عذاب کے نازل ہوجانے کے بعد اسے تسلیم کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔
Top