Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 20
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
اَمَّنْ هٰذَا : یا کون ہے یہ الَّذِيْ : جو هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ : وہ لشکر ہو تمہارا يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے سوا اِنِ الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر اِلَّا : مگر فِيْ غُرُوْرٍ : دھوکے میں
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں
امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم من دون الرحمن . اس سے پہلے اَوَلَمْ یَرَوْا آچکا ہے اس لیے اس جگہ اَمْ متصلہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ کیا انہوں نے ایسی مصنوعات کو دیکھ کر اس بات کو نہیں سمجھا کہ خسف زمین اور سنگ بار طوفان کا عذاب دینے پر اللہ کو قدرت ہے یا ان کے پاس ان کا کوئی جتھا اور لشکر ایسا ہے جو رحمن کے مقابلہ میں ان کی حمایت کرسکے اور خدا کے بھیجے ہوئے عذاب کو دفع کرسکے۔ بعض لوگ قائل ہیں کہ تکرار استفہام سے بچنے کے لیے اس جگہ اَمْ کو ابتدائیہ قرار دیا جائے گا نہ متصلہ ہوگا نہ منفصلہ۔ مَنْ استفہامی مبتداء ہے ھٰذَا خبر ہے اَلَّذِیْ صفت ہے یا بدل ہے۔ ینصرکم جُنْدٌ کی صفت ہے چونکہ لفظ جندٌ مذکر ہے اس لیے ینصر مذکر لایا گیا۔ س) اسم اشارہ (ہذا) اور اسم موصول (الذی) کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان کے ذکر کے بعد کلام کے جو معنی پیدا ہوتے ہیں وہ بغیر ذکر کے بھی سمجھ میں آجاتے تھے (کیا ان کا ذکر بےفائدہ ہے ؟ ) ج) ابہام کے بعد تفصیل کرنے سے مطلب زیادہ دل نشین ہوجاتا ہے (ھذا الذی میں ابہام ہے صرف موصوف کے ذکر میں صفت کا ذکر مبہم ہوتا ہے ‘ اس کے بعد ھو جند کہنے سے مبہم صفت کی تفصیل ہوگئی) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰذا مبتداء ہو اور الذی خبر ہو اور یقال محذوف قرارر دیا جائے اور پورے جملہ کو اس کا مفعول (نائب فاعل) قرار دیا جائے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : امّن یقال ھذا الذی ھو جندٌ لکم ‘ جُند سے مراد وہ بت ہیں جن کو اہل شرک معبود قرار دیتے تھے۔ یعنی یہ بات تو تصور میں بھی نہیں آتی کہ یہ بت مدد کرسکیں یا تم کو رزق دے سکیں یا جند سے مراد کافروں کے حمایتی ہیں۔ ان الکافرون الا فی غرور . غرور سے مراد ہے ‘ شیطانی فریب یعنی شیطان فریب دیتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان پر نازل نہ ہوگا اور یہ اغواء محض فریب ہوتا ہے ‘ ناقابل اعتماد۔ پہلا کلام (لکم) خطابی تھا۔ اس جگہ (الکافرون) غائبانہ مذکور ہے کلام کا رخ خطاب سے غیبت کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
Top