Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
اسی طرح وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے اللہ جو عزیز ہے حکیم ہے،
اللہ تعالیٰ عزیز ہے، حکیم ہے، اعلیٰ ہے، عظیم ہے، غفور ہے، رحیم ہے یہ سورة الشوریٰ کے پہلے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس طرح یہ سورة اپنے فوائد پر مشتمل ہوکر آپ کی طرف نازل کی جا رہی ہے اسی طرح آپ پر دوسری سورتوں کی بھی وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے جو حضرات انبیائے کرام تھے ان پر وحی کی گئی یہ وحی اللہ تعالیٰ نے بھیجی جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے وہ برتر ہے اور عظیم الشان ہے ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ ﴾ کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اس میں مشرکین کی حرکت بد کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی ہے کیونکہ آگے مشرکین کے شرک کا ذکر آ رہا ہے اس لیے پہلے ہی ان کی تردید فرما دی اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة مریم میں فرمایا ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ0090 اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ0091﴾ (اور کہتے ہیں کہ رحمن اولاد رکھتا ہے یہ تو تم ایسی بھاری بات لائے کہ عجب نہیں آسمان پھٹ پڑیں اس کے باعث اور زمین شق ہوجائے اور گرپڑیں پہاڑ ٹوٹ کر، کہ ثابت کیا رحمن کے لیے فرزند) آیت کی یہ تفسیر صاحب معالم التنزیل نے اختیار کی بعض دیگر مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بہت بڑی کثیر تعداد میں ہیں وہ آسمانوں میں سجدہ کیے ہوئے پڑے ہیں اور بہت سے فرشتے دوسرے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ان فرشتوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے آسمانوں کا پھٹ پڑنا کوئی بعید نہیں، آیت کا یہ معنی لینا بھی بعید نہیں ہے چونکہ اس کے بعد فرشتوں کی تسبیح تحمید کا ذکر ہے اس لیے اس کا یہ معنی بھی مرتب ہوتا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اطت السماء وحق لھا ان تاط والذی نفسی بیدہ ما فیھا موضع اربع اصابع الا وملک واضع جبھتہ ساجد اللّٰہ (آسمان چر چر بولتا ہے اور لازم ہے کہ وہ ایسی آوازیں نکالے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! آسمان میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کسی فرشتے نے سجدہ میں اپنی پیشانی نہ رکھی ہو) (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص 457)
Top