Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
بغوی نے لکھا ہے کہ حسن بن فضل سے دریافت کیا گیا کہ حٰمٓ - عٓسٓقٓ کے دو ٹکڑے کیوں کئے گئے (یعنی حٰمٓ کو عٓسٓقٓ سے جدا کیوں کیا گیا) اور کٓھٰیٰعٓصٓ کے دو ٹکڑے کیوں نہیں کئے گئے ؟ حسن نے جواب دیا : جن سورتوں کو حٰمٓ سے شروع کیا گیا ‘ ان میں سے یہ بھی ایک سورت ہے ‘ اس جیسی دوسری سورتوں کی طرح اس کا آغاز بھی (مستقل طور پر) حٰمٓ سے کیا گیا اور (کٓہٰ سے کسی سورت کا آغاز نہیں کیا گیا ‘ اسلئے آہٰ کو یٰعٓصٓ سے ملا کر آھٰیٰعٓصٓ کردیا گیا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ مبتدا ہے ‘ عٓسٓقٓ اسکی خبر ہے (اور مبتدا کو خبر سے الگ لکھا جاتا ہے ‘ خبر کا جزء نہیں بنایا جاتا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ عٓسٓقٓ دو آیات ہیں اور کٓھٰیٰعٓصٓ ایک آیت ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کٓھٰیٰعٓصٓ اور ان جیسے دوسرے مقطعات کو وہ علماء بھی حروف ہجا قرار دیتے ہیں ‘ جو مقطعات قرآن کی مختلف تشریحات کرتے ہیں اور حٰمٓ کو حروف ہجا قرار دینے پر اہل تاویل کا اتفاق نہیں ہے۔ بعض نے حٰمٓ کو فعل کے معنی میں بیان کیا ‘ یعنی حُمَّ الْاَمْرُ (جو چیز ہونے والی ہے اس کا فیصلہ کردیا گیا) ۔ عکرمہ راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ح اللہ کا حکم ہے اور م اللہ کی مجد اور ع اللہ کا علم اور س اللہ کی سناء (بزرگی یا نور) اور ق اللہ کی قدرت ‘ اللہ نے ان کی قسم کھائی ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کا قول کہا جاسکتا ہے کہ ہر صاحب کتاب نبی کے پاس حٰآ آآآ وحی کے ذریعہ سے بھیجا گیا ‘ اگلے جملہ سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم اسی طرح آپ پر اور آپ سے پہلے جو (پیغمبر) گذرے ہیں ‘ ان پر اللہ جو زبردست (اور) حکمت والا ہے ‘ وحی بھیجتا رہا ہے۔ الْعَزِیْزُ سب پر قوت کے ساتھ غالب۔ الْحَکِیْمُ اپنے حکم میں غلطی نہ کرنے والا ‘ یعنی جو معانی اس سورت میں اللہ نے وحی کئے ہیں ‘ ان کی طرح یا جس طرح اللہ نے یہ سورت وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے ‘ اس کی طرح اللہ نے آپ پر بھی (دوسری آیات اور سورتوں کی) وحی بھیجی اور آپ سے پہلے پیغمبروں پر بھی۔ یوحی مضارع کا صیغہ ہے جس میں حال ماضی کو بغرض استمرار بیان کیا ہے ‘ یعنی وحی بھیجنے کا اللہ کا دستور ہی رہا ہے۔
Top