اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی طرف یہ قرآن کریم اسی طرح وحی کیا گیا ہے
2 ؎ { کذلک } کے لفظ سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ یہ وہ کلام ہے جس کے آنے کی خوشخبری اس سے پہلے سنائی جا چکی ہے گویا جس طرح لوگ اس کو انہونی بات سمجھ رہے ہیں جیسے کوئی اچانک حادثہ ہوجاتا ہے یہ ایسی بات نہیں بلکہ یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قبل ازیں ایک بار نہیں بار بار اطلاع دی جا چکی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ فلاں دھرتی میں پیدا ہوں گے اور ان کی طرف اللہ العزیز و الحکیم کا آخری کلام نازل ہوگا اس لیے کہ نبوت و رسالت کا منصب ان پر ختم کردیا جائے گا۔ تورات میں جو اصل صحیفہ سریانی زبان میں نازل ہوا جس کی زبان کو مختلف زبانوں میں نازل ہوا جس کی زبان کو مختلف زبانوں میں بدلا گیا لیکن اصل زبان میں نازل ہونے ولاے نسخہ کو محفوظ نہ رکھا گیا آج بھی ان الفاظ میں گواہی پیش کر رہا ہے کہ : ” میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔ “ (استثناء 19 , 18:18) سیدنا داؤد (علیہ السلام) پر جو الہام ہوا اس میں وہ اس طرح گویا ہیں کہ : ” تُو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطیف بتایا گیا ہے اس لیے خدا نے تجھے ابد تک مبارک کیا۔ “ اور ایک جگہ ارشاد ہے ” میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا۔ پس سارے لوگ ابد الآباد تیری ستائش کریں گے۔ “ (زبور باب 45)
سبحان اللہ ! کس خلوص اور جوش محبت کے ساتھ سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے انوار حسن و جمال ، جاہ و جلال وغیرہ کا بیان فرمایا جس منہ سے انہوں نے آپ ﷺ کی یہ تعریف کی اس منہ پر قربان اور مبارک لب و دہن سے یہ مدح وثناء فرمائی اس پر جانم فدایم ؎ نہ من برآن گل عارض منزل سرایم و بس
کہ عندلیب تو ازہر طرف ہزار انند
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) نبی امی ﷺ کے اس طرح ثناء خواں ہیں کہ ” میرا محبوب نورانی گندم گوں ہزاروں میں سردار ہے ، اس کا سر ہیرے کا سا چمکدار ہے۔ اس کی زلفیں سلسل مثل کوے کے کال ہیں ، اس کا چہرہ مانند ماہتاب کے ، جوان مانند صنوبر کے ، اس کا گلا نہایت شیریں اور وہ بالکل محمد یعنی تعریف کیا گیا ہے۔ یہ ہے میرا دوست اور میرا محبوب اے بیٹیو یروشلم کی۔ “ (غزل الغزلات باب 15: 10 تا 16) تعصب و نفسانیت اور حق پوشی و حق ناشناسی کا برا ہو کہ اس بشارت میں جو صریح نام نامی موجود ہے پہلے تو اس میں معنی تغیر کیا گیا ہے اور محمد کے لفظی معنی ستودہ کے لیے گئے پھر اس لفظ ہی کو اڑا دیا گیا اور ترجمہ در ترجمہ کی ترمیم و تبدیلی اس مقام پر مختلف الفاظ کا ردو بدل کرتی رہی۔ تاہم اصل عبرانی اور قدیم عربی ترجموں میں اصل نام ” محمد “ موجود ہے اور مرقومہ بشارت عہد عتیق مطبوعہ 1840 میں اس عبارت سے مرقوم ہے کہ ” میرا محبوب سرخ وسفید ہے۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔ وہ خوبی میں رشک و سرود ہے۔ اس کا منہ شیرینی ہے ، ہاں ! وہ سراپا عشق انگیز ہے اے یروشلم کی بیٹیو ! یہ میرا پیار یہ میرا جانی ہے۔ “ (غزل الغزلات) اس طرح ترجمہ میں تغیر و تبدل بھی کیا گیا اور لفظ ” محمد “ کو بالکل اڑا دیا گیا اور اس کو تحریف کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے حواریوں سے مخاطب ہیں کہ ” میں تم سے کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (تسلی دینے والا) تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آ کر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ (انجیل یوحنا 15: 7 , 6) غور کیجئے کہ اس سے زیادہ روشن اور صریح بشارت اور کونسی ہوگی۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بعد وہ تسلی دینے والا کون آیا ؟ وہی محمد رسول اللہ ﷺ جن کو وہ دوسری جگہ اس سے بھی زیادہ صاف صاف یاد کرتے ہیں کہ ” بعد اس کے میں تم سے بہت کلام نہ کروں گا اس لیے کہ اس جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ “ (یوحنا باب 30:15) بابی انت و امی یا رسول اللہ ! در وحی فداک یا نبی اللہ ! کتنا بلد ہے تیرا رتبہ ؟ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! مکہ والوں کو تعجب ہوتا ہے تو ہوتا رہے آپ ان کے اس تعجب پر تعجب کا اظہار کریں اور یہ پیغام ان تک بدستور پہنچاتے رہیں۔
یہ وحی الٰہی آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء و رسل کی طرف بھی کی گئی
3 ؎ یہ وحی الٰہی جو آپ ﷺ کی طرف کی جا رہی ہے جس پر ان کو اتنا تعجب ہو رہا ہے کوئی نئی چیز نہیں۔ آپ ﷺ سے قبل اے پیغمبر اسلام دوسرے سارے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی تھی جس طرح آپ ﷺ کی طرف کی گئی ہے۔ وحی کیا ہے ؟ اس کی وضاحت پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی کہ وحی ” اشارہ سریع “ ہے جو نہایت خفی بھی ہو یعنی ایسا اشارہ جو نہایت سرعت اور تیزی سے ہو اور اس طرح کیا جائے کہ وہ سمجھے جو اشارہ کرنے والا ہے یا وہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور درمیان میں بڑے دھیان سے سننے اور دیکھنے والوں کے پلے کچھ بھی نہ پڑے کہ کیا دیا گیا اور کیا لیا گیا لیکن اصطلاح اسلامی میں دراصل مراد اس خاص اشارہ سے ہے جو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف سے اس کے نبیوں اور رسولوں کی طرف کیا جاتا تھا تاہم اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو مزیدواضح کرنے کے لیے روح القدس کے ذریعہ دوسرے فرشتوں کی معیت میں جب نازل کیا جاتا تھا اور وہ روح القدس اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو کانوں تک پہنچانے کا خاص اہتمام بھی کرتا تھا تو اس کو وحی متلو سے ذکر کیا جاتا تھا اور وہ روح القدس اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو کانوں تک پہنچانے کا خاص اہتمام بھی کرتا تھا تو اس کو وحی متلو سے ذکر کیا جاتا تھا اور وہی وحی قرآن کریم کے اندر محفوظ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ یہ باتیں جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی باتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی بات بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی باتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی تھیں لیکن ان نبیوں اور رسولوں کے جانے کے بعد ان کی قوموں نے تحریف کردی جس کی مثالیں اور شہادتیں پیچھے ذکر کی جا چکی ہیں اس لیے اس ربِّ کریم نے جو عزیز و حکیم ہے اب خاص اہتمام کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ان کو نازل کیا ہے اور اب اس میں یعنی اس کے اصل مضامین اور ان مضامین کی زبان میں اس زبان کے ساتھ جس میں یہ نازل کیا گیا محفوظ رہے گا اور اس کے الفاظ و مضامین میں کوئی ردو بدل نہیں کرسکے گا یہ وہ تحدی اور چیلنج ہے جو قرآن کریم کے زندہ وجاوید معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔