Tafseer-e-Haqqani - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
اسی طرح سے اللہ زبردست حکمت والا آپ کی طرف وحی کیا کرتا ہے
ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں ہی وحی کرتا چلا آیا ہے اور تیری طرف بھی وحی کرتا ہے۔ کذلک میں اشتراک نفس وحی کی طرف ہے اور یوحی جو مضارع کا صیغہ ہے حال ماضی کے لیے ہے اللہ کے بعد العزیز الحکیم دو وصف بیان فرمائے تاکہ یہ استعجاب بالکل دور ہوجائے۔ عزیز بمعنی زبردست غالب اس میں اس کی شاہنشاہی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شاہنشاہ اپنے بندوں پر فرمان بھیجتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں جب دنیا کے بادشاہ رعیت کے حال سے غافل نہیں اور ان کے تمرد کی پرواہ نہیں کرتے کسی کو فرمان دے کر احکام جاری کرنے کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ کیوں نہ بھیجے الحکیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کی حکمت بندوں کی اصلاح کے لیے انبیاء پر احکام وحی کرنا ضروری سمجھتی ہے اس کے بعد اور چند اوصاف بیان فرماتا ہے جو اس کی جلالت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں (1) لہ مافی السماوات و مافی الارض آسمانوں اور زمین کی اسی کی بادشاہی ہے اور اس کی بادشاہی اور بادشاہوں کی طرح نہیں بلکہ وہ العلی ہے برتر اور عظیم ہے۔ (2) تکادالسمٰوت الخ اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کی ہیبت و عظمت سے آسمان پھٹے جاتے ہیں۔ من فوقھن کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب ان کے اوپر جو آسمان ہیں ان کا یہ حال ہے تو یہ بیچارے کیا چیز ہیں ؟ (3) والملائکۃ یسبحون اور ملائکہ جواہر نورانی اور بڑی قوت و طاقت والے ہیں اس کی تسبیح اور تحمید کیا کرتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں اور اس کے سوا یستغفرون لمن فی الارض زمین والوں کے لیے خدا سے بخشش مانگتے ہیں ‘ اہل ایمان کے لیے بعض کہتے ہیں سب کے لیے کفار و مشرکین کے لیے بھی کہ الٰہی تو ان پر مہربانی کر راہ راست سمجھا کہ یہ اپنی بدی سے باز آویں اور بخشے جاویں۔ (4) الاان اللہ ھوالغفور الرحیم دیکھو اللہ جو ہے بڑا معاف کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔ اس نے بخشنے اور مہربانی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور ان پر وحی کی۔ والذین اتخذو الخ مگر بندوں کو دیکھئے کہ اللہ کے سوا انہوں نے اور بھی حمایتی اور معبود بنا رکھے ہیں اللہ حفیظ علہیم اللہ ان کو دیکھ رہا ہے وہ کہاں جاسکتے ہیں وما انت علہیم بوکیل اے محمد آپ ان کے ذمہ دار نہیں اس میں ایک شان استغنائی ہے اور توحید کی طرف تہدید کے پیرائے میں ترغیب ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ کیا لطائف آیات میں رکھے ہوئے ہیں۔
Top