Kashf-ur-Rahman - Al-Ankaboot : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا مقرر کیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر جدا ہوجاتا اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کیلئے چڑھائی کردیتا جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ان سے پاک ہے
(91) چونکہ توحید کا مسئلہ اہم ہے اس کی مزید وضاحت فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی اولاد قرار دیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اور ہر الٰہ اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لئے چڑھائی کردیتا۔ جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ان باتوں سے پاک اور بری ہے یعنی نہ تو اس کی کوئی اولاد ہے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں یا عرب کے جاہل کہتے ہیں نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے اگر کوئی اور خدا بھی ہوتا تو اس کا قوی امکان تھا کہ وہ اپنی اپنی بنائی ہوئی اور پیدا کی ہوئی مخلوق کو لیکر علیحدہ ہوجاتا اور اس کا بھی امکان تھا کہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی غرض سے چڑھائی کردیتا اور سارا عالم خدائوں کی لڑائی میں تباہ ہوجاتا۔ جیسا کہ دنیا کے بادشاہوں کی لڑائی میں ہوتا ہے اور جب آج تک ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوگیا کہ جو باتیں یہ مشرک اس کی شان میں کہتے ہیں وہ ان سب باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔
Top